بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سکول فیس رعایت کو شرائط کی پابندی کے ساتھ مشروط کرنا /بچہ کا کسی کے مال میں نقصان پید اکرنا

سوال

ہماراسکول ہےجس میں ماہانہ فیس ہرکلاس کےلحاظ سےمقررہے:دوسری کلاس کی ماہانہ فیس 1500روپےمقررہے،والدین سکول انتظامیہ سےفیس میں رعایت کرنےکامطالبہ کرتےہیں،سکول انتظامیہ اس رعایت کومشروط طورپردینے کیلئےتیارہے۔جس کی تفصیل درج ذیل ہے
مقررہ فیس=1500رعایت کی شرائط کےبعدادائیگی مثلا=700روپے
نمبر ۱۔ماہانہ فیس7تاریخ تک اداکی جائےگی تورعایتی فیس لاگوہوگی ورنہ فی یوم:100روپےرعایت ختم ہوجائےگی
 نمبر ۲۔ اگربچہ سکول دیر سےآیاتوبقایا800روپےمیں سےفی یوم30روپےرعایت ختم کی جائےگی
نمبر ۳۔اگربچہ نے بغیراجازت/درخواست کےچھٹی کی توبقایا800روپےمیں سے100روپےرعایت ختم کی جائےگی
نمبر ۴۔اگربچہ بغیریونیفارم،ٹوپی،جوتہ،کاپی،کتاب،یاگندےکپڑوں کے ساتھ سکول آیاتوفی یوم50روپےرعایت ختم کی جائے گی۔
 نمبر ۵۔والدین مقررہ وقت پربچےکوسکول سےلےکرجائیں،اگرمقررہ وقت ختم ہونےکے بعد بچہ سکول میں رہا توبچہ کوسنبھالنےکی مناسب قیمت مثلا 50روپےفی یوم وصول کی جائے۔
نمبر ۶۔اگربچہ پیشاب وپاخانہ کردےتو صفائی کرنےکی صورت میں100/200وصول کیاجائےگا
نمبر ۷۔سکول والےاگراپنی طرف سے کوئی چیزدیں تواس کی مناسب قیمت وصول کریں گے۔ ان شرائط پرزبانی یاتحریری معاہدہ کے بعدسکول انتظامیہ رعایتی فیس کےعلاوہ رقم وصول کرسکتی ہےیانہیں؟
نمبر ۸۔ایسےہی بعض بچےسکول کانقصان کردیتے ہیں اورآپس میں ایک دوسرے کا نقصان کردیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟واضح رہے کہ ہمارے ہاں فیس(اجرت) پیشگی لی جاتی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس اضافی رقم کوفیس میں رعایت سےتعبیرکیاگیاہےاس کونمبر۱، ۲، ۳، ۴ میں ذکرکردہ شرائط کےساتھ مشروط کرنااوران شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں سکول انتظامیہ کابچوں یاان کےسرپرستوں سےطےشدہ فیس(خواہ وہ اصل فیس ہویارعایتی)سےاضافی رقم کامطالبہ کرناجائزنہیں،کیونکہ یہ اضافی رقم درحقیقت تعزیرِمالی یاان شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں طےشدہ فیس میں اضافہ ہےجوناجائز ہےاس لئےاس صورت میں صرف طے شدہ فیس وصول كرنادرست ہےالبتہ بچوں کوسکول کےقواعدوضوابط اوربروقت سکول پہنچنےکاپابندبنانےکےلئےنیزان کےسرپرست حضرات کوابتداءمہینہ میں فیس اداکرنےکا پابندبنانےکےلئےیہ طریقہ اختیارکیاجاسکتاہےکہ فیس توتمام بچوں کی یکساں مقررکی جائے لیکن ساتھ ہی سکول انتظامیہ ان شرائط(۱، ۲، ۳، ۴)کےبارےمیں یہ اعلان کردےکہ جوبچےان شرائط کی پابندی کریں گےانہیں یاان کےوالدین کوسکول کی طرف سےوظیفہ یاانعام دیاجائیگاالبتہ اگراس صورت میں سکول انتظامیہ وہ وظیفہ/ انعام  بچوں کودیں تو والدین اسےاپنےاستعمال میں نہیں لاسکتے۔
نمبر۵اور۶میں مذکوردونوں شرطوں کافیس میں رعایت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ فریقین(سکول انتظامیہ اور بچوں کےسرپرست حضرات)کےدرمیان الگ معاملہ ہےچنانچہ اگرفریقین کےدرمیان یہ طے ہوجائےکہ سکول انتظامیہ اضافی وقت میں بچےکوسنبھالنےپراضافی فیس وصول کرےگی تواس طرح کرنادرست ہےبشرطیکہ وقت اورفیس متعین ہومثلاًآدھا گھنٹہ سنبھالنےکی صورت میں پچاس روپےاضافی وصول کرےگی اورپندرہ منٹ سنبھالنےکی صورت میں پچیس روپےوصول کرےگی وغیرہ تاکہ بعدمیں کسی قسم کےنزاع کاامکان نہ رہےاسی طرح سکول انتظامیہ بچےکےپیشاب کی صفائی کاانتظام کرنےپربھی اضافی فیس طےکرکےوصول کرسکتی ہے۔
نمبر۷میں مذکورصورت کابھی فیس کی رعایت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،بلکہ یہ بھی ایک الگ معاملہ ہے اس کاحکم یہ ہےکہ اگریہ معاملہ فریقین کی رضامندی سےہواورسکول میں داخلہ لےکرپڑھنے کواس شرط کے ساتھ مشروط نہ کیاجائے کہ جو چیزیں سکول سے دی جائیں گی ان کاخریدناضروری ہوگابلکہ اسے الگ  معاملہ سمجھا جائے تواس کی اجازت ہے اوراس صورت میں سکول انتظامیہ کے لئے ان چیزوں کی باہمی طے شدہ قیمت وصول کرناجائزہے۔
اگرکوئی بچہ سکول کایاکسی دوسرےبچے کاکوئی نقصان کردےتواس کےاپنے مال میں سےاس کا تاوان لازم ہوگا،اگرفی الحال اس کےپاس مال نہ ہوتواس کی ملکیت میں مال آنےکاانتظارکیاجائےگااس کے سرپرست پراس کاتاوان لازم نہیں کیاجائیگاالبتہ اگرسرپرست اپنی طرف سےاداکرلےتویہ اس کی جانب سے تبرع واحسان ہے۔

 

 

 

بدائع الصنائع،العلامةعلاء الدين  الكاساني(م:587هـ) (4/179)دار الكتب العلمية
وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فضروب: منها: أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع من المنازعة،فإن كان مجهولا ينظر إن كانت تلك الجهالة مفضية إلى المنازعة تمنع صحة العقد، وإلا فلا۔
مجلة الأحكام العدلية،لجنة من العلماء والفقهاء في الخلافة العثمانية(ص:177) نور محمد،كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي
 (مادة 916) أتلف صبي مال غيره يلزم الضمان من ماله وإن لم يكن له مال ينتظر إلى حال يسر ولا يضمن وليه۔
بحوث في قضایا الفقهیة المعاصرة،مفتی محمد تقی العثمانی (1/66) دار العلوم کراچی 
أن يشترط على صاحبه عقدا آخر، كسلف أو قرض، أو بيع أو إجارة، أو صرف الثمن أو غيره، فهذا يبطل البيع، ويحتمل أن يبطل الشرط وحده، المشهور في المذهب أن هذا الشرط فاسد يبطل به البيع، لأن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((لا يحل بيع وسلف، ولا شرطان في بيع)).قال الترمذي: هذا حديث صحيح، ((ولأن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيعتين في بيعة)) حديث صحيح وهذا منه، قال أحمد: ” وكذلك كل ما في معنى ذلك، مثل أن يقول: على أن تزوجني بابنتك، أو على أن أزوجك ابنتي. فهذا كله لا يصح، قال ابن مسعود صفقتان في صفقة ربا، وهذا قول أبي حنيفة والشافعي وجمهور العلماء، وجوزه مالك وجعل العوض المذكور في الشرط فاسدا “.ولكن هذا المحظور إنما يلزم إذا كان العقد الواحد مشروطا بالعقد الآخر في صلب العقد۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس