بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بائع مشتری کی طرف سے ٹرک کرایہ پرلےکر سامان لوڈ کر دے تو یہ مشتری کا قبضہ سمجھا جائے گا

سوال

ایک صاحب نے35بوری پیکٹ  چاول کاآرڈردیا،دوکاندارنےآرڈرکےمطابق وہ  سامان ایک ٹرک میں رکھواکربھجوادیا،ٹرک جب خریدارکےپاس پہنچاتواس نےاپنےگودام پراتروانےکاحکم دیاجس کےمطابق ٹرک ڈرائیورگودام کےدروازےپرٹرک کھڑاکرکےاپنےساتھی کےہمراہ سامان اتارنےلگ گیا، اس دوران ٹرک اسٹارٹ ہی رہااورباوجودخریدارکےکہنےپرڈرائیورنےٹرک بندنہیں کیاچنانچہ ابھی 25/26 بوریاں  پیکٹ ہی اترےتھےکہ ایک تیسراشخص  ان کی عدم موجودگی میں ٹرک لیکرچلتابنادراں حالیکہ اس ٹرک میں دیگرلوگوں کاسامان بھی حسب آرڈرموجودتھا۔اب دوکاندارخریدارسےمطالبہ کرتاہےکہ35بوریوں پیکٹ کےپیسےاداکردوجبکہ خریدار،دوکاندارسے35بوری پیکٹ پورےسامان کی ادائیگی کامطالب ہےاور دوکاندارکاکہناہےکہ میں نےسامان پورا ہی روانہ کردیاتھالہٰذاثمن پورا ہی اداکیا جائے۔اب اس صورت میں دوکاندارکاپورےثمن کی ادائیگی کامطالبہ کرنادرست ہےیانہیں؟اورخریدارکاحق یہ بنتا ہے کہ وہ  پورے سامان کی قیمت ادا کرے؟
تنقیح: جس ٹرک میں مذکورہ سامان آیاہےوہ دوکاندارنےاپنی طرف سےکرایہ پرلیاتھایاخریدارکے کہنےپرلیاتھااوراس کاکرایہ کس کےذمہ تھا؟
جوابِ تنقیح:   مذکورہ صورت میں کرایہ خریدارکےذمہ تھا۔

جواب

مذکورہ صورت میں بظاہریہ معلوم ہورہاہےکہ بائع نےخریدارتک اس کاخریداہوا مال لے جانے کےلئےٹرک ڈرائیورکوخریدارکی طرف سےاجرت پرلےکرسامان اس کےحوالےکردیاہے،جس کاکرایہ خریدارکواداکرناہے،اگرصورتِ حال واقعتاً ایسی ہی ہےتواس صورت میں ٹرک ڈرائیورکاقبضہ خریدارکاقبضہ سمجھا جائےگا،لہٰذامذکورہ صورت میں خریدارپرکل سامان کی قیمت اداکرنالازم ہے۔باقی ٹرک ڈرائیورپرضمان لازم کرنےمیں تفصیل یہ ہےکہ جہاں یہ واقعہ پیش آیاہے،وہاں کےرواج،عُرف اورمارکیٹ کےاصولوں کے مطابق اگرٹرک ڈرائیورکی کوتاہی سےسامان چوری ہواہےتواس پرضمان لازم ہوگا،اوراگراس کی کوتاہی نہیں ہے،تواس صورت میں فریقین(خریداراورٹرک ڈرائیور)کی رضامندی سےصلح کی صورت اختیار کی جاسکتی ہے ۔
الفتاوی التاتارخانیة،فرید الدین الدهلوی الهندی(م:786هـ) (8/263) فاروقیه کوئتة
(مسئله:11845)وفی الفتاوی العتابیة: إذا قال المشتري للبائع: ابعثه إلی ابنی، واستأجرالبائع رجلا إلی ابنه، فهذا لیس بقبض، والأجرعلی البائع، إلا أن یقول: استاجرعلی من یحمله، فقبض الأجیر یکون قبض المشتري إن صدقه أنه استأجر ودفع إلیه، وإن أنکر استئجاره والدفع إلیه، فالقول قوله۔
رد المحتار،العلامة  ابن عابدين الشامي (م:1252هـ) (9/109) رشیدیة کوئتة
اعلم أن الهلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا، ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا وفي أوله لا يضمن عند الإمام مطلقا ويضمن عندهما مطلقا. وأفتى المتأخرون بالصلح على نصف القيمة مطلقا، وقيل إن مصلحا لا يضمن وإن غير مصلح ضمن، وإن مستورا  فالصلح اهـ ح والمراد بالإطلاق في الموضعين المصلح وغيره۔
 العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (2/105) دارالمعرفة
(سئل) في أجير مشترك يرعى غنما لجماعة أكل الذئب منها البعض هل يضمن أو لا؟(الجواب) : لا يضمن عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وعند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى يضمن وأفتى أئمة سمرقند بالصلح على النصف في الأجير المشترك واختار أبو جعفر وأبو الليث رحمهما الله تعالى فيه إن كان صالحا يبرأ بيمينه وإن كان بخلافه يضمن وإن كان مستورا يؤمر بالصلح وأفتى بذلك كثير من المتأخرين وهو أولى من غيره وأسلم وبمثله أفتى الخير الرملي (أقول) الحاصل أن في المسألة أربعة أقوال كلها مصححة والأول قول الإمام وهو ظاهر الرواية وعليه المتون والأخيران أفتى بهما المتأخرون لتغير الزمان ومحل الخلاف ما إذا كان الهلاك لا بفعل الأجير وكان مما يمكن الاحتراز عنه أما إذا كان بفعله فإنه يضمن اتفاقا سواء كان بالتعدي أو لا كتخريق الثوب من دقه معتادا أو غيره وإذا كان بغير فعله ولا يمكن الاحتراز عنه كالحرق الغالب واللصوص المكابرين لا يضمن اتفاقا ومحل الخلاف أيضا في الإجارة الصحيحة وفيما إذا كانت العين مما يحدث فيها الأجير عملا فلو كانت الإجارة فاسدة لا يضمن اتفاقا كما في شرح ابن الملك عن المحيط ولو أعطاه مصحفا مثلا ليعمل له غلافا فضاع المصحف فإنه لا يضمن اتفاقا كما في الجوهرة۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس