ایک صاحب نے35بوری پیکٹ چاول کاآرڈردیا،دوکاندارنےآرڈرکےمطابق وہ سامان ایک ٹرک میں رکھواکربھجوادیا،ٹرک جب خریدارکےپاس پہنچاتواس نےاپنےگودام پراتروانےکاحکم دیاجس کےمطابق ٹرک ڈرائیورگودام کےدروازےپرٹرک کھڑاکرکےاپنےساتھی کےہمراہ سامان اتارنےلگ گیا، اس دوران ٹرک اسٹارٹ ہی رہااورباوجودخریدارکےکہنےپرڈرائیورنےٹرک بندنہیں کیاچنانچہ ابھی 25/26 بوریاں پیکٹ ہی اترےتھےکہ ایک تیسراشخص ان کی عدم موجودگی میں ٹرک لیکرچلتابنادراں حالیکہ اس ٹرک میں دیگرلوگوں کاسامان بھی حسب آرڈرموجودتھا۔اب دوکاندارخریدارسےمطالبہ کرتاہےکہ35بوریوں پیکٹ کےپیسےاداکردوجبکہ خریدار،دوکاندارسے35بوری پیکٹ پورےسامان کی ادائیگی کامطالب ہےاور دوکاندارکاکہناہےکہ میں نےسامان پورا ہی روانہ کردیاتھالہٰذاثمن پورا ہی اداکیا جائے۔اب اس صورت میں دوکاندارکاپورےثمن کی ادائیگی کامطالبہ کرنادرست ہےیانہیں؟اورخریدارکاحق یہ بنتا ہے کہ وہ پورے سامان کی قیمت ادا کرے؟
تنقیح: جس ٹرک میں مذکورہ سامان آیاہےوہ دوکاندارنےاپنی طرف سےکرایہ پرلیاتھایاخریدارکے کہنےپرلیاتھااوراس کاکرایہ کس کےذمہ تھا؟
جوابِ تنقیح: مذکورہ صورت میں کرایہ خریدارکےذمہ تھا۔
مذکورہ صورت میں بظاہریہ معلوم ہورہاہےکہ بائع نےخریدارتک اس کاخریداہوا مال لے جانے کےلئےٹرک ڈرائیورکوخریدارکی طرف سےاجرت پرلےکرسامان اس کےحوالےکردیاہے،جس کاکرایہ خریدارکواداکرناہے،اگرصورتِ حال واقعتاً ایسی ہی ہےتواس صورت میں ٹرک ڈرائیورکاقبضہ خریدارکاقبضہ سمجھا جائےگا،لہٰذامذکورہ صورت میں خریدارپرکل سامان کی قیمت اداکرنالازم ہے۔باقی ٹرک ڈرائیورپرضمان لازم کرنےمیں تفصیل یہ ہےکہ جہاں یہ واقعہ پیش آیاہے،وہاں کےرواج،عُرف اورمارکیٹ کےاصولوں کے مطابق اگرٹرک ڈرائیورکی کوتاہی سےسامان چوری ہواہےتواس پرضمان لازم ہوگا،اوراگراس کی کوتاہی نہیں ہے،تواس صورت میں فریقین(خریداراورٹرک ڈرائیور)کی رضامندی سےصلح کی صورت اختیار کی جاسکتی ہے ۔