بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں کہنے سے وقوع طلاق کاحکم

سوال

ایک شخص نےاپنی بیوی کومیسج کیا(موبائل پرپیغام بھیجا)کہ میراتمہاراکوئی رشتہ نہیں، مرگیا تمہارے لیےساجد، تم میرے پیچھےاپنی زندگی بربادمت کرو ،بلکہ اپنےآگےکی سوچوتمہاری پوری زندگی ہے، ساجداب کبھی تمہارانہیں ہوسکتا ،کبھی نہیں ،اس  پیغام سےمذکورہ شخص کی بیوی کو طلاق ہوئی ہےیانہیں؟

جواب

شوہرنےبیوی کوجوالفاظ لکھ کربھیجےہیں ان میں سےیہ الفاظ کہ” میراتمہارا کوئی رشتہ نہیں” طلاق کی نیت سےکہےیالکھےجائیں تو ان سے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اوریہاں مذکورہ الفاظ طلاق کی نیت سےلکھیں ہیں۔بہرحال شوہر نے اگر مذکورہ الفاظ طلاق کی نیت سے لکھے ہیں توبیوی پر ایک طلاق  بائن واقع ہوگئی جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندریاعدت کے بعد میاں بیوی باہمی رضامندی سےنئےمہر کے عوض نکاحِ جدید کرسکتے ہیں۔
الفتاوى الهندية (1/375) رشیدیة کوئتة
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى۔
الأَصل للشيباني،أبو عبد الله محمد بن الحسن الشيباني (م:189هـ)(4/456) دار ابن حزم بيروت 
وإذا قال الرجل لامرأته: لا نكاح بيني وبينك، ولا ملك لي عليك، ولا سبيل لي عليك، أو قال لها كلاماً يشبه الفرقة، يعني الطلاق، فهو بائن كما وصفت لك۔
البناية ، العلامةبدر الدين العينى (م:855هـ) (5/364) دار الكتب العلمية
أما الكنايات فقوله أنت بائن وبتة وخلية وبرية وحرام…  وقال السروجي: ينبغي أن يزاد فيها: أنت بتلة، ولا سلطان لي عليك، فتصير ثلاثة عشر. أما المدلولات، قيل: قومي واذهبي واخرجي وتقنعي وتخمري واستبرئي والحقي وانتقلي واغربي وابتغي الأزواج، لا نكاح بيني وبينك، وحبلك على غاربك ووهبتك لأهلك، وما أنا بزوج لك، وبنت مني. ولو قال فسخت نكاحك أو النكاح الذي بيني وبينك، وأنا بريء من نكاحك ونجوت مني أو تخلصت أو نزلت لك طلاقا يقع بالنية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس