بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گندم پیسنے کی اجرت ،اسی گندم یاآٹے سے لینا اورپیسنے سے پہلےاجرت لینا

سوال

ہمارےگاؤں میں مکئی،گندم وغیرہ چکی میں پسوائی جاتی ہےاوراس کی اجرت اسی گندم،مکئی (اناج میں سے)لی جاتی ہےاورظاہر ہے کہ اجرت پسائی  سےپہلےلی جاتی ہے: 1۔کیا گندم پیسنےکی اجرت اسی گندم میں سےلیناجائزہےیانہیں؟ 2۔گندم پیسنےسےپہلےاسکی اجرت وصول کرناکیساہے؟3۔آٹاپیسنےکی بعداسی آٹے میں سےاجرت وصول کرنا  کیسا  ہے ؟۔

جواب

نمبر ۱۔گندم پیسنےکی اجرت اسی گندم میں سےمقدارطےکرکے لیناجائز ہے۔
نمبر ۲۔اگرپیشگی اجرت کی شرط عقد میں نہ لگائی گئی ہوتواس صورت میں گندم پیسنےوالاگندم پیسنےسےپہلےاجرت کامستحق نہیں ہےاورنہ ہی اس کواجرت کےمطالبےکاحق حاصل ہے، البتہ اگرپیشگی اجرت کی عقد میں شرط لگائی گئی ہوتوعامل عمل کی تکمیل سےپہلےبھی اجرت کامطالبہ کرسکتاہےاوراگرشرط نہ لگائی گئی ہولیکن فریقین رضامندہوں توپیشگی اجرت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نمبر ۳۔ گندم پیس کراس سےحاصل ہونےوالےآٹےکوبطوراجرت طےکرکے لیناجائزنہیں ہے، البتہ اگریہ معروف بھی نہ ہواورشرط بھی نہ  لگائی جائےکہ اسی گندم سےحاصل ہونےوالےآٹےسےاجرت دوں گا، بلکہ مطلق آٹابطوراجرت طےکرکےاس طرح کہےکہ میں اس عمل کے عوض میں آپ کواتناآٹادوں گا اگرچہ بعدمیں اسی آٹے سےدےدےتواسکی گنجائش ہے۔
الفتاوى الهندية (4/502)دار الكتب العلمية بيروت
صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورًا   ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك، فذلك فاسد. والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة۔
بدائع الصنائع،العلامةعلاء الدين الكاساني(م:587هـ)(6/41) دار الكتب العلمية بيروت
أن عقد الإجارة لا يخلو إما أن شرط فيه تعجيل البدل أو تأجيله. وأما إن كان مطلقا عن شرط التعجيل والتأجيل، فإن شرط فيه تعجيل البدل فعلى المستأجر تعجيلها والابتداء بتسليمها، سواء كان ما وقع عليه الإجارة شيئا ينتفع بعينه كالدار والدابة وعبد الخدمة، أو كان صانعا أو عاملا ينتفع بصنعته أو عمله كالخياط والقصار والصياغ والإسكاف؛ لأنهما لما شرطا تعجيل البدل لزم اعتبار شرطهما لقوله صلى الله عليه وسلم«المسلمون عند شروطهم»۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس