ہمارےبازارمیں تقریبًاصدسال قدیمی ایک مسجدہےجس میں ایک کمرہ اورکچھ حصہ صحن اورکچھ حصہ میں وضوخانہ ہےوضوخانہ اورصحن کےساتھ حصہ ہےجہاں امام صاحب طلباءکوپڑھاتےہیں۔مذکورہ بالا تمام مقامات کومسجدکاحصہ سمجھ کرداخلی دروازہ کےساتھ ہی جوتیاں اتاردی جاتی ہیں۔اب مسجدمیں دخول وخروج کیلئےدعاء،اعتکاف اورجماعت ِثانیہ کیلئےہمیں تعین حدودکی ضرورت ہےجبکہ بانیان میں سےکوئی بھی حیات نہیں اورموجودجاتی ہیں ۔ معمرنمازی ومتولیان بھی درست حد سے عدم واقفیت ظاہر کرتے ہیں ۔ اب موجودہ صورت میں کہاں سےاصل مسجدکی تعین کی جائےاورکس حصہ کوداخل وخارج مسجدکیاجائے؟
سوال کےجواب سےپہلےیہ بات بطورتمہیدسمجھ لیں کہ جس جگہ کوایک مرتبہ مسجدشرعی بنادیا جائےوہ تاقیامت مسجدہی رہتی ہےاوراُسےتاقیامت مسجدسےنکالناجائزنہیں لیکن اگرکسی جگہ ایک مرتبہ مسجد بنانےکےبعدتوسیع کی ضرورت ہوتوبعدمیں متولی مسجدتوسیع کرسکتاہے۔اس تمہیدکےبعداب صورت مسئولہ میں ذکرکردہ مسجدکےجس حصےکو بظاہرمسجدکےاندرسمجھاجارہاہےلیکن اس کےمسجدکاحصہ ہونےمیں شبہ ہےتو موجودہ متولی مسجداوراہل محلہ مشورہ سےاس کے بارے میں طے کرلیں کہ یہ مسجد میں شامل ہے اس سے آپ کی پریشانی دورہوجائےگی،اس لئےکہ اگریہ پہلےسےمسجدمیں شامل ہےتودوبارہ نیت کرلینےمیں کوئی حرج نہیں اور اگرمسجدمیں شامل نہیں تواب نیت کرنےسےیہ جگہ مسجدمیں داخل ہوجائےگی۔واضح رہےکہ جن جگہوں کے بارےمیں شبہ ہےان میں سےکسی حصےکواحتیاطاً مسجدسےخارج کرنےکافیصلہ نہ کیاجائے۔