ایک اہلِ حدیث کاکہناہےکہ آپ کی فتاویٰ عالمگیری جلدنمبر(3)صفحہ نمبر(115)پرکتے، گدھےاور درندوں کےگوشت بیچنے کوجائزلکھاہے،نیزکسی ملکی کافرکوشراب خریدنےاوربیچنےکاوکیل بنانےاور اس کےذریعہ شراب کی خریدوفروخت کرنےکوبھی جائزلکھاہواہےتواس کامطلب یہ ہواکہ آپ کےنزدیک ان کو کھاناپینابھی جائزہےحالانکہ حضورﷺنےان سب چیزوں کوحرام فرمایاہے۔مفتی صاحب!مجھےتویقین ہےکہ الحمدللہ ہمارا کوئی مسئلہ قرآن وحدیث کےخلاف نہیں ہےاس لئے براہِ کرم اس سلسلےمیں میری راہ نمائی فرمائیں کہ:1۔کیاواقعی ہمارےنزدیک کتے،گدھےاوردرندوں کاگوشت فروخت کرناجائزہے؟جب ان کوکھاناممنوع ہےتوخرید وفروخت کیوں جائزہے؟2۔کسی کافرکووکیل بناکراس کےذریعہ شراب خریدنےبیچنےکاکیاحکم ہے؟ 3۔خرید وفروخت جائزہونےکاحکم عام ہےیاکسی خاص موقع کےلئےہے؟4۔ ایک مسلمان دوسرےمسلمان کو یہ اشیاء بیچ سکتاہےاورایک مسلمان یہ چیزیں کسی سےخریدسکتاہے؟5۔ان سب صورتوں میں ان کی قیمت کاکیاحکم ہوگا؟کیا ان کی قیمت ایک مسلمان کےلئے اپنےاستعمال میں لاناجائزہے؟
حضراتِ احناف رحمہم اللہ کےہاں مسلمانوں کےلئےجس طرح کتے، گدھےاوردیگر درندوں کا گوشت کھانااورشراب پیناحرام ہےاسی طرح مفتیٰ بہٖ اورراجح قول کےمطابق ان کی خریدوفروخت بھی ناجائزاورگناہ ہےحتی کہ کسی کافروکیل کےذریعہ شراب کی خرید وفروخت بھی جائزنہیں۔اورجب ان کی خریدوفروخت جائزنہیں توظاہرہےکہ ان کی قیمت کواپنےاستعمال میں لانابھی جائزنہیں۔ کتبِ فقہ میں مذکورہ جانوروں کےگوشت کی خریدوفروخت اورکافروکیل کےذریعہ شراب کی خریدوفروخت کےجائز ہونےکے جواقوال منقول ہیں وہ مذہبِ حنفیہ میں ضعیف اورغیرمقبول اقوال ہیں اورحضراتِ فقہاءنے ان کوذکر کرنےکےبعدان کے ضعیف اور غیرمفتیٰ بہا ہونےکی وضاحت فرمائی ہےلہٰذاان کوبنیاد بناکریہ کہنا درست نہیں کہ مذہبِ حنفیہ میں ان کی خریدوفروخت جائزہے۔نیزیہ اعتراض کرنابھی درست نہیں کہ”جب ان گوشتوں کی خریدوفروخت کوجائز لکھاہےتواس کالازمی تقاضایہ ہےکہ یہ حلال بھی ہوں۔” کیونکہ اس اعتراض کا مدار اس بات پرہےکہ “صرف حلال اشیاء کی خریدوفروخت اورلین دین جائزہے،حرام اشیاء کوخریدنااوراس کا لین دین کرناہی جائزنہیں اورکسی چیز کی خریدوفروخت کاواحدمقصداس کوکھاناپیناہی ہوسکتاہےکوئی اورمقصدنہیں ہوسکتا۔”جبکہ یہ بات خلافِ عقل ہونےکےساتھ ساتھ خلافِ قرآن وسنت بھی ہے کیونکہ کھانےپینےکےعلاوہ دیگرجائز اور مباح فوائد حاصل کرنےکی غرض سے حرام اشیاء کی خریدوفروخت اورلین دین ازروئےقرآن وسنت جائز ہےیہاں پراس کی صرف ایک مثال لکھی جاتی ہے:حدیث شریف میں شکارکی غرض سےکتوں کی خریدوفروخت کی اجازت دی گئی ہےجبکہ ان کےحرام ہونےمیں کسی قسم کا شبہ نہیں کیاجاسکتا،چنانچہ حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ: حضورﷺنےبلی اورکتے (کوبیچنےاوراس) کی قیمت لینے سےمنع فرمایا،لیکن شکاری کتے (کوبیچنے) سے (منع نہیں فرمایا۔) (سننِ نسائی ۲ /۱۹۵)
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ: آپﷺنےکتے کی قیمت سے منع فرمایاہےلیکن شکاری کتے (کی قیمت سے منع نہیں فرمایا۔) (سننِ ترمذی ۱/ ۲۴۱)
لہٰذا اس سےیہ بات معلوم ہوئی کہ کسی چیزکی خریدوفروخت کےجائزہونے کامداراس کےحلال ہونے پر نہیں بلکہ قابلِ انتفاع ہونےپرہے(یعنی جس چیز سے کسی قسم کا جائزاورمباح فائدہ حاصل کیاجاسکتاہواس کی خریدوفروخت جائزہےاگرچہ اس کاکھاناپیناحرام ہو)اسی نکتہ کےپیشِ نظر بعض اقوال میں ان اشیاء کی خریدوفروخت کوجائزقراردیاگیاہےکیونکہ ان کاجائزاستعمال بھی ممکن ہےیہی وجہ ہےکہ فقہ حنفی کی کتابوں میں جہاں ان گوشتوں کی خریدوفروخت کوجائز لکھاہےوہاں یہ وضاحت بھی ہےکہ ان کو خریدنےکےبعد کتوں یابلیوں کو کھلادیاجائے(خودنہ کھائیں)اسی طرح شراب کےبارے میں وضاحت فرمائی کہ خریدنےکی صورت میں اسے بہادیاجائےیااس کاسرکہ بنادیاجائےاور فروخت کرنےکی صورت میں اس کی قیمت کوصدقہ کردیا جائے اپنے استعمال میں نہ لائیں ،اس لئےان اقوال کی بنیادپر مذہبِ حنفیہ پراعتراض واردنہیں ہوتا بالخصوص جبکہ مذہبِ حنفیہ میں دیگردلائل شرعیہ کی روشنی میں یہ اقوال غیرمقبول اورضعیف قراردئیےگئےہیں۔