بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گندےنالےپرمسجدبنانے کاحکم

سوال

شمع چوک اچھرہ بازارلاہورسےایک گندانالہ گذرتاہے۔اس چوک پربنی ہوئی سابقہ مسجد منہدم اورشہیدکرکے،اب باَمرمجبوری گندےنالہ کےعین اوپرتعفن اوربدبودارجگہ کےاوپرچھت ڈال کرشرعی مسجدتعمیرکی گئی ہے،جودومنزلہ تعمیرہےصرف اوپرکی منزل مسجداورنمازکیلئےمختص کی گئی ہے،نیچےکاحصہ اورمقاصدکیلئےہےیعنی وضوءکی جگہ اورمکتب کےطورپراستعمال کی جائیگی۔1۔کیااب ایسی تعفن اوربدبودارجگہ پرنمازپڑھنادرست ہے؟2۔اورایسی گندی جگہ،گندے ماحول میں مسجدبنانےکاحکم کیاہے؟3۔اورکیایہ حدیث ہےکہ جہاںمسجدتعمیرکی جائےوہ قیامت تک کیلئےسات زمینوں نیچےتک اوراوپرسات آسمانوں تک وہ مسجدہی رہتی اورہوتی ہے یاکسی کاقول ہے؟

جواب

سوالات کےجوابات سےپہلےبطورِتمہیدیہ بات سمجھ لیں کہ شرعًا جس جگہ ایک مرتبہ مسجدتعمیر ہوجائےوہ جگہ تحت الثریٰ سےآسمان تک مسجدبن جاتی ہےیہی وجہ ہےکہ مسجدکےاوپراورنیچےکےحصےمیں گندگی پھینکنا،پیشاب کرناوغیرہ امورممنوع اورناجائزہیں لیکن اگرکسی جگہ مسجدبنانےسےپہلےنیچےیااوپرکےحصےکو مصالحِ مسجدمثلاًامام صاحب کی رہائش یامسجدکی دکانوں کےلئےوقف کیاجائےیارفاہِ عامہ جیسےہسپتال وغیرہ کےلئےمتعین کردیاجائےتواس کی گنجائش ہےاورایسی صورت میں صرف وہی عمارت مسجدہوگی جومسجدکےلئے تعمیرکی جائےبشرطیکہ اوپریانیچےوالی جگہ کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو۔
        اس تمہیدکےبعدآپ کےسوالات کےجوابات حسبِ ذیل ہیں
نمبر۱۔سوال میں جس مسجدکاذکرکیاگیاہےاس میں نمازپڑھنابلاشبہ درست ہےکیونکہ نمازکی جگہ یعنی فرش پاک ہے گندگی نیچےہےنیز اگرحکومت نےاُوپروالی منزل کومسجدکےلئے وقف کردیاہےاورنیچےکی جگہ مصالحِ مسجداور عامۃ المسلمین کی اجتماعی ضرورت کےلئےمختص ہےکسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے(جیساکہ سوال میں اس کی وضاحت کی گئی ہے) تواس صورت میں اُوپروالی منزل  مسجدِشرعی ہے۔
نمبر۲۔مسجدعبادت کی جگہ اوراللہ تعالیٰ سےمناجات کامقام ہےعبادات کی تعظیم اورمسجدکےتقدس کاتقاضایہ ہےکہ ایسی متعفن اوربدبودارجگہ میں مسجدنہیں بنانی چاہیےاوراگرمجبوری یاضرورت کےموقع پرایسی جگہ میں مسجد بنانی پڑجائےتوایساانتظام کرلیاجائےکہ مسجدکےاندربدبومحسوس نہ ہو۔
نمبر۳۔کافی حدتک تلاش کےباوجود ہمیں یہ الفاظ کسی حدیث شریف میں نہیں مل سکےالبتہ یہ فقہا  کا قول  ہے کتبِ فقہ میں اس قسم کے الفاظ مذکورہیں کہ مسجدتحت الثریٰ سےآسمان کی بلندی تک ہوتی ہے(جس کامطلب اوپرذکرکردیاگیاہے۔)
عمدة القاري ،العلامة بدر الدين العينى(م:855هـ) (4/182) دار إحياء التراث العربي
عمومه يدل على جواز الصلاة في أعطان الإبل وغيرها بعد أن كانت طاهرة، وهو مذهب جمهور العلماء، وإليه ذهب أبو حنيفة ومالك والشافعي وأبو يوسف ومحمد۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، الملا  علي القاري (م:1014هـ)(2/618) دارالفكر
نهي عن الصلاة في مبارك الإبل وقال: لأن هذه المواضع محال النجاسة، فإن صلى فيها بغير السجادة بطلت، ومع السجادة تكره للرائحة الكريهة۔
فتح الملهم،شبیر احمد العثمانی (م:1369هـ)(3/112) دار العلوم کراتشی
وقال الأبی:قال عیاض :والتخییر فی مرابض الغنم والمنع فی معاطن الابل یدل علی ماتقدم من التوجیه بقوة الرائحة والزفورة۔
بدائع الصنائع، العلامةعلاء الدين  الكاساني(م:587ه)(1/82) دار الكتب العلمية
إن كان يصلي على الأرض، والنجاسة بقرب من مكان الصلاة جازت صلاته قليلة كانت أو كثيرة؛ لأن شرط الجواز طهارة مكان الصلاة. وقد وجد، لكن المستحب أن يبعد عن موضع النجاسة تعظيما لأمر الصلاة … ۔
حاشية الشِّلبي،شهاب الدين أحمد بن محمد الشِّلبي(م:1021ه)(3/330) بولاق
أورد أبو الليث هنا سؤالا وجوابا فقال فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والناس ينتفعون به قيل إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامة المسلمين صار ذلك لله تعالى أيضا.وأما الذي اتخذ بيتا لنفسه لم يكن خالصا لله تعالى فإن قيل لو جعل تحته حانوتا وجعله وقفا على المسجد قيل لا يستحب ذلك ولكنه لو جعل في الابتداء هكذا صار مسجدا۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين  الشامي(م:1252ه) (4/390) سعيد
قلت: لا يخفى عليك أن المفتى به الذي عليه المتون جواز وقف المنقول المتعارف وحيث صار وقف البناء متعارفا كان جوازه موافقا للمنقول۔
الدر المختار، العلامة علاء الدين الحصكفي (م:1088ه) (1/656) سعيد
(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء۔
رد المحتار، العلامة ابن عابدين  الشامي (م:1252ه)، (1/656) سعيد
(قوله إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس