مشكاة المصابيح،محمد بن عبد الله الخطيب(م:741هـ)(2/960)المكتب الإسلامي بيروت
3210 – عن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة فقال: «ما هذا؟» قال: إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب قال: «بارك الله لك أولم ولو بشاة». (متفق عليه)
خیر الفتاوی (4/602) امدادیہ
لڑکی والوں کابارات کومہمان ہونےکی حیثیت سےکھاناکھلانادرست ہےبشرطیکہ مروّجہ منکرات سےخالی ہو، بحوالہ مسائل اربعین فی سنۃ سیّد المرسلین، حضرت شاہ محمداسحاق دہلوی رحمہ اللہ علیہ۔
فتاوی محمودیہ ،مفتی محمود حسن گنگوہی (م:1417ھ)(12/142) فاروقیہ کراچی
یہ صحیح ہے کہ ولیمہ لڑکا یا اس کے اولیاء کریں گے ، لیکن جو لوگ لڑکی والے کے مکان پر مہمان آتے ہیں اور ان کا مقصود شادی میں شرکت کرنا ہے اور ان کو بلایا بھی گیا ہے تو آخر وہ کھانا کہاں جاکر کھائیں گے اور اپنے مہمان کو کھلانا تو شریعت کا حکم ہے اور حضرت نبی اکرم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے۔ البتہ لڑکے والے کی طرح مقابلہ پر ولیمہ لڑکی کی طرف سے ثابت نہیں ہے۔ حضرت رسولِ مقبول ﷺ اپنی بیٹی کے مکان پر تشریف لے جاتے تو بیٹی کا بھی خاطر کرنا ثابت ہے۔