بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

رخصتی کےموقع پرلڑکی والوں کی جانب سےکھاناکھلانا

سوال

نکاح کےبعد(رخصتی سےپہلےیابعد)لڑکی والوں کی جانب سےکھاناکھلاناکیساہےاوراس کے لئےدعوت نامہ چھپواکرتقسیم کرنایازبانی دعوت دیناشریعت کی رُوسےکیساہے؟جبکہ مقصود رسم کواداکرناہو یعنی(رخصتی کاکھاناکھلانا)نہ ہو۔ بلکہ مسرت کےموقع  پر اقرباء کو بھی خوشی میں شریک کرنا ہو۔ نیز دعوت کرنے والا اس کو لازم اور ضروری بھی نہ سمجھ رہا ہو۔ کیااس طرح دعوت کااہتمام کرنادرست ہے؟اورایسی دعوت میں شرکت کاکیاحکم ہے؟

جواب

شادی کےموقعہ پرمردکی طرف سے ولیمہ سنت ہےعورت کی طرف سےولیمہ یعنی کھانےکی دعوت سنت نہیں ہے،بلکہ محض رسم ہےاورشریعت اس طرح کی رسم کی حوصلہ شکنی کرتی ہے،کیونکہ اس سے خاص طورپر غریب لوگوں کیلئےمعاشرت میں تنگی پیدا ہوتی ہے۔البتہ اگر کسی شخص نےریا،نام ونمودودیگر خرافات سےبچتےہوئےآنیوالےمہمانوں کےکھانےکاانتظام کیاتویہ مہمان نوازی ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 مشكاة المصابيح،محمد بن عبد الله الخطيب(م:741هـ)(2/960)المكتب الإسلامي بيروت
3210 – عن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة فقال: «ما هذا؟» قال: إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب قال: «بارك الله لك أولم ولو بشاة». (متفق عليه)

خیر الفتاوی (4/602) امدادیہ

لڑکی والوں کابارات کومہمان ہونےکی حیثیت سےکھاناکھلانادرست ہےبشرطیکہ مروّجہ منکرات سےخالی ہو، بحوالہ  مسائل اربعین فی سنۃ سیّد المرسلین، حضرت شاہ محمداسحاق دہلوی رحمہ اللہ علیہ۔ 

   فتاوی محمودیہ ،مفتی محمود حسن گنگوہی (م:1417ھ)(12/142) فاروقیہ کراچی

یہ صحیح ہے کہ ولیمہ لڑکا یا اس کے اولیاء کریں گے ، لیکن جو لوگ لڑکی والے کے مکان پر مہمان آتے ہیں اور ان کا مقصود شادی میں شرکت کرنا ہے اور ان کو بلایا بھی گیا ہے تو آخر وہ کھانا کہاں جاکر کھائیں گے اور اپنے مہمان کو کھلانا تو شریعت کا حکم ہے اور حضرت نبی اکرم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے۔  البتہ لڑکے والے کی طرح مقابلہ پر ولیمہ لڑکی کی طرف سے ثابت نہیں ہے۔ حضرت رسولِ مقبول ﷺ اپنی بیٹی کے مکان پر تشریف لے جاتے تو بیٹی کا بھی خاطر کرنا ثابت ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس