مولاناطارق جمیل صاحب کےبیان میں میں نے سناہے:کہ جب آل سعود نےجزیرہ مملکت عربیہ پر قبضہ کیاتوانہوں نےوہاں موجودتمام مقامات مقدسہ کو ڈھاناشروع کردیااوران کےنشانات کوبھی نہ چھوڑا،جب روضہ اقدس کومنہدم کرنےکی باری آئی توپوری دنیا میں اس منصوبہ کےخلاف ایک شوربرپا ہوگیا، کہرام مچ گیا۔کئی ممالک سےعلماءجمع ہوئے اوراس کوسمجھانےکی کوشش کی مگرکچھ بات نہ بنی،بالآخر ہندوستان دارالعلوم دیوبندسےایک علماءکاوفدگیا،جس میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ بھی تھے،انہوں نےمحمدبن سعود کےسامنےاہلِ نجدکےعلماءسےمناظرہ کیااوراس حدیث کوبنیادبناکردوگھنٹےگفتگوفرمائی…الخ اس بیان کااصل ماخذ کیاہے؟حوالہ لکھ دیں،کیایہ واقعہ صحیح ہے؟ساری گفتگوکیاہےاورانہوں نےحدیث مبارکہ سے کیسےاستشہاد کیا ؟
اس واقعہ کی صحت اورعدمِ صحت اورحدیث سےکیفیتِ استدلال کےبارےمیں حضرت مولانا طارق جمیل صاحب سےرجوع کرکےپوچھاجاسکتاہے۔البتہ اس سےملتےجلتےعلامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کےواقعات،فقہی مباحثہ اوران کی علمی نکتہ آرائیاں ان کی خود نوشتہ ڈائری((کمالات عثمانی المعروف بالتجلیّات عثمانی))میں بکثرت ہیں،اوراسی کتاب میں شیخ الاسلام علامہ شبیراحمدعثمانی کےملک محمدبن سعودکی نگرانی میں اہلِ نجدکےساتھ مباحثہ بموضوع ((تعمیرات قباب،بناءمقابرکاانہدام اورقبرپرستوں کی عدم تکفیر وغیرہ))بھی موجودہے۔وہاں ملاحظہ کئےجاسکتےہیں۔(کمالات عثمانی(ص:350)ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)