ایک آدمی کی اولاد میں صرف ایک بیٹی ہےاوراس کی کوئی اولادنہیں ہے، البتہ اس کےدوبھائی اوردوبہنیں بھی ہے، حال ہی میں جب اس پرفالج کاحملہ ہواتواُس نےاپنی ساری جائیداداپنی بیٹی کےشوہر/داماد کےنام کردی،شایدیہ بیٹی کی رعایت کےپیش نظراُس نےکیا،اوراب بھی وہ آدمی بقید حیات ہے۔اُس آدمی کایہ فعل شریعت اسلامی میں کیاحکم رکھتاہے؟نیز اُس نےدیگرورثاءکوپس پُشت ڈالتےہوئےیہ جوفیصلہ کیاہے،کیا اسلام اُس شخص کواس کی اجازت دیتاہے،جبکہ اس کےبعدسے تقریباًتین سال ہوگئےکہ وہ اسی بیماری میں ہے، بیماری میں کوئی فرق نہیں آیا۔
تنقیح: معلوم یہ کرناہے کہ مذکورہ شخص نےاپنےدامادکواپنی ساری جائیدادمالک وقابض بنا کردےدی ہے بایں طور کہ اپناتصرف اس سےختم کردیااوردامادکےحوالےکردی یا ایسا نہیں کیا، بلکہ صرف کاغذات میں اس کےنام کی ہے ؟
جواب تنقیح: مذکورہ شخص نےاپنےدامادکوکل جائیدادکامالک وقابض بھی بنادیاہےاوراس مذکورہ شخص کو اس جائیدادمیں کسی تصرف کاحق بھی نہیں ہے، البتہ مکان کےبارےمیں تفصیل یہ ہے کہ اگرچہ یہ مکان ہبہ تو کردیاہےاورداماد رہ بھی اسی مکان میں رہاہے،اس کواس کاقبضہ بھی دےدیااوراب واہب کوکسی قسم کااختیار بھی نہیں ہے،لیکن واہب کی ملکیتی اشیاء بھی اس مکان میں بدستورموجود ہیں۔
شخصِ مذکورکااپنی کل جائیدادمذکورہ تفصیل کےمطابق اپنےدامادکوہبہ کرنےاوراس مالکانہ قبضہ دیدینےسےیہ ہبہ درست ہوگیاہےاوراس شخص کاداماد اس جائیدادکامالک بن گیاہے۔ البتہ مکان کا ہبہ مکمل نہیں ہواکیونکہ مکان ابھی تک ہبہ کرنےوالےکی مملوکہ اشیاءسےمشغول ہےجس سےمکان پر قبضہ مکمل نہیں ہوا ۔