بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دوطلاقیں دینے کا حکم

سوال

میں اپنی والدہ  کےساتھ اس بات پرجھگڑرہاتھاکہ میری بیوی کوباہرنہ لےجایاکریں، پیچھے میری بیگم کھڑی ساری باتیں سن رہی تھی تومیری والدہ نےغصےمیں آکرکہا “دےدواس کوفیصلہ، میں اس کی شادی کہیں اور کردوں گی”،(تومیں اس وقت اپنےہوش وہواس میں نہیں تھاکیونکہ میں نےپاؤڈر پیا ہوا تھا) تومیں نے کہا: ماں جی!  میں دے دیاں گاطلاق،پھرمیں نےغصےمیں اپنےچہرےکارخ اپنی بیگم کی طرف کرکے2مرتبہ  کہا”  جامیں نےتجھےطلاق دی”۔اگرمیری ان باتوں سےطلاق ظاہرہوتاہےتو پھرآپ جوفیصلہ کریں گےوہ مجھےمنظورہوگا۔

جواب

مذکورہ صورتِ حال اگرحقیقت پرمبنی ہےاورآپ نےوہی الفاظ کہےتھےجوسوال میں مذکورہیں نیزاس کےعلاوہ کسی اورموقع پرآپ نےاپنی اس بیوی کوکوئی طلاق نہیں دی تو ایسی صورتِ حال میں آپ کی بیوی پردوطلاقیں واقع ہوئی ہیں۔ جس کاحکم یہ ہےکہ عدت کےدوران آپ کورجوع کاحق حاصل ہےاوراگر رجوع کئےبغیرعدت گزرجائےاوراس کےبعدمیاں بیوی ایک دوسرےسےملناچاہیں تونئےمہرکےعوض تجدیدِ نکاح کرلیں۔واضح رہےکہ اس صورت میں آئندہ طلاق کےسلسلےمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگرکسی موقع پر ایک طلاق بھی دیدی توتین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائےگی۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(2/456)رشيدية
 (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران۔
وفیه أيضاّ(2/499)رشیدیة
كرر لفظ الطلاق وقع الكل۔
فتح القدير،العلامة ابن الهمام(م:861هـ)(3/489)دارالفكر
(قوله وطلاق السكران واقع) وكذا عتاقه وخلعه، وهو من لا يعرف الرجل من المرأة ولا السماء من الأرض، ولو كان معه من العقل ما يقوم به التكليف فهو كالصاحي۔
الأَصل لأبي عبد الله محمد بن الحسن الشيباني(م:189هـ)(4/552)دار ابن حزم بيروت لبنان
وإذا خلع السكران امرأته أوطلقها فهو جائز. بلغنا عن علي بن أبي طالب وابن مسعود وابن عباس أنهم قالوا: كل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه والصبي۔
الفتاوى الهندية(1/353)دار الفكر
وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس