بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کوئی وارث حصہ میراث کے عوض میں رقم وصول کرلے

سوال

ہم پانچ بھائی دوبہنیں ہیں۔ہمارےوالدین فوت ہوچکےہیں۔وِراثت میں انہوں نےایک پلاٹ اور ایک مکان چھوڑاہے۔مکان میں ہم پانچ بھائی رہائش پذیرہیں بہنوں کی شادی ہوچکی ہے۔والدین کےفوت ہونےکے بعدہم بھائیوں نےپلاٹ فروخت کیا۔اس کےپیسےکچھ اس مکان کی مرمت میں لگائے۔باقی رقم بہن بھائیوں میں تقسیم کی۔جس میں بہنوں کاحصہ مکان اورپلاٹ کاان کوبتاکردےدیا۔ہم بھائیوں نےاندازے سےرقم تقسیم کی تھی۔کیامزیدبہنوں کوحصہ دیناچاہیئے۔واضح رہےکہ بہنوں کوجوحصہ ہم نےاس وقت دیاتھاوہ اس  پر  راضی تھیں اور یہ حصہ پلاٹ اورمکان دونوں کےعوض میں دیاتھا۔

جواب

سوال میں ذِکرکردہ صورتِ حال اگردرست ہےاوربہنوں نےواقعتاًمکان اورپلاٹ میں اپنےحصہ وِراثت کےعوض رضامندی سےرقم وصول کرلی تواس صورت میں ان کاحصہ باقی نہیں رہا اور آپ پراب مزیدحصہ دینا لازم نہیں ہے۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين محمد الحصكفي(م:1088هـ)(5/ 642)سعيد
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف .كذا في البحر الرائق،لابن نجيم المصري(م:970هـ)(7/260)كتاب الصلح،فصل في الدين المشترك۔
(1/421) كتاب الطلاق، باب تعليق الطلاق)۔
كذا في البحر الرائق،لابن نجيم المصري(م:970هـ)(7/260)كتاب الصلح،فصل في الدين المشترك۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس