میری اہلیہ اپنےمیکےگئی ہوئی تھی کہ میں نے5ستمبر2012ءکوفون کرکےاس سےپوچھا کہ تونےآناہےیانہیں؟اس نےآنےسےانکارکیاتومیں نےایک مرتبہ یہ الفاظ کہے”تجھےایک طلاق ہے”اورایک گالی بھی دی اس نےپوچھاکہ کتنی طلاقیں دی۔میں نےکہاکہ ایک دی ہے میری اہلیہ عالمہ ہےاس نےفون پر مجھےبتایاکہ میری عدت تین ماہواریاں گزرچکی ہیں۔اس کےعلاوہ تقریباًایک سال قبل کسی بات پرمیں نے اسےماراجس سےوہ ڈرگئی اورگاؤں نہیں جارہی تھی(اس وقت رہائش لاہور میں تھی) تومیں نےاسےگاؤں جانے پرآمادہ کرتےہوئےیہ الفاظ کہے:اگرمیں نےتجھےادھر مارا توتجھےتین طلاق؟اس کےبعد وہ گاؤں نہیں گئی بلکہ اپنےمیکےچلی گئی اور وہاں سےابھی تک واپس نہیں آئی اوراسی دوران مذکورہ فون پرطلاق کاواقعہ پیش آیا ۔ اب معلوم یہ کرناہے:1۔کہ اس صورتِ حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟آیامیں اس کےساتھ دوبارہ نکاح کرسکتاہوں یا نہیں؟2۔اگر میں اس کو گاؤں لےجاتا ہوں اورکبھی خدانخواستہ اس کومارلیتاہوں توکتنی طلاقیں واقع ہوں گئی اور کیاحکم ہوگا؟
نکاح کےبعدمستقبل میں اگرکبھی بھی آپ نےگاؤں میں بیوی کوماراتوطلاقِ مغلظہ واقع ہو جائے گی۔ البتہ اس سےاحترازکےلئےیہ صورت اختیارکی جاسکتی ہےکہ عدت گذرنےکےبعد نکاح کرنےسے پہلےگاؤں میں جاکراپنی بیوی کوایک دفعہ مارکراپنی شرط پوری کرلیں اوراس شرط کےپورا ہونےکی بعدنکاح کرلیں۔اس کےبعداگرآئندہ کبھی بیوی کوگاؤں میں مارنےکی نوبت آئی تومزیدطلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔