بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سودی رقم اور اس سےخریدےہوئے سامان میں ملکیت کا ثبوت

سوال

خالص سودی رقم اورسازوسامان (جوسودی رقم سےخریداگیاہوکی ملکیت) کےبارےمیں آیا مالک (سودخور) کواس میں ملکیت حاصل ہوتی ہےکہ نہیں؟

جواب

نمبر ۱۔ سودکامال(سودی رقم)مطلقاًحرام ہے، سودلینےوالےکی ملکیت اس پرنہیں آتی،اس کاحکم یہ ہےکہ لینےوالااسےاپنےاستعمال میں نہیں لاسکتا، بلکہ جس سےوصول کیاہواس کوواپس کرناواجب ہے۔ اوراگرمالک معلوم نہ ہو یااس تک پہنچاناممکن نہ ہوتوبلانیّتِ ثواب مالک کی طرف سےفقراءپرخرچ کرنا واجب ہے۔
نمبر ۲۔ سودی رقم سےسامان خریدنےکےحوالہ سےتفصیل یہ ہےکہ اگرکسی نےسامان خریدنے سےپہلےسودمیں حاصل  شدہ رقم فروخت کنندہ کودی اوراس کےعوض میں کوئی چیزخریدی یاسودمیں حاصل ہونےوالےنوٹ کونکال کردوکاندارسےیہ کہاکہ اس نوٹ کےبدلےمیں فلاں چیزدےدواورپھرسامان کے عوض وہی نوٹ دےدیا توان دونوں صورتوں میں خریدی ہوئی چیزمیں حرمت منتقل ہوجائےگی اوراس کااستعمال جائزنہیں ہوگا۔ اس کےعلاوہ  سودی رقم سےخریدی ہوئی تمام صورتوں مثلاًسودی نوٹ دکھاکرشے خریدی اور ادائیگی میں کوئی اورنوٹ دےدیایاسودمیں حاصل شدہ نوٹ دکھائےاورمتعین کئےبغیرمطلقاًپیسوں کے بدلےمیں کوئی چیز خریدی اورادائیگی کےوقت سودمیں حاصل شدہ نوٹ دیدیاتوایسی صورت میں سامان کااستعمال ناجائزنہیں ہوگا،البتہ سودی رقم کواستعمال کرنےکاگناہ کبیرہ ہوگااوروبال اس پرباقی رہےگاجب تک کہ وہ رقم صاحبِ حق کوواپس یااس کی طرف سےفقراء پرخرچ نہ کردی جائے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(4/244)رشيدية کوئتة
رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه…وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب…الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس۔
الفتاوى الهندية(3/215)دارالفكر
اكتسب مالا من حرام ثم اشترى شيئا منه فإن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بتلك الدراهم فإنه لا يطيب له ويتصدق به، وإن اشترى قبل الدفع بتلك الدراهم ودفعها فكذلك في قول الكرخي وأبي بكر خلافا لأبي نصر، وإن اشترى قبل الدفع بتلك الدراهم ودفع غيرها أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم أو اشترى بدراهم أخرى ودفع تلك الدراهم قال أبو نصر يطيب ولا يجب عليه أن يتصدق وهو قول الكرخي والمختار قول أبي بكر إلا أن اليوم الفتوى على قول الكرخي كذا في الفتاوى الكبرى۔
 المحيط البرهاني، برهان الدين محمود بن أحمد (م:616هـ)(5/499)دار الكتب العلمية
اشترى بدراهم مغصوبة أو بدراهم اكتسبها من الحرام شيئاً، فهذا على وجوه؛ أما إن دفع إلى البائع تلك الدراهم، أولاً، ثم اشترى منه بتلك الدراهم. أو اشترى قبل الدفع بتلك الدراهم، ودفعها أو اشترى قبل الدفع بتلك الدراهم، ودفع غير تلك الدراهم، أو اشترى مطلقاً، ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر، ودفع تلك الدراهم، وفي الوجوه كلها لا يطيب له التناول قبل ضمان الدراهم، وبعد الضمان لا يطيب له الربح؛ هكذا ذكر في «الجامع الصغير» قال أبو الحسن الكرخي: هذا الجواب صحيح في الوجه الأول والثاني، وأما في الوجه الثالث والرابع والخامس فلا، واليوم الفتوى على قول أبي الحسن لكثرة الحرام دفعاً للحرج عن الناس۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس