بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی کو اپنے ذاتی غیر مستعمل بٹوے سے نقدی ملے اور وہ بٹوہ ایک عرصے سے اس کے پاس ہو؟

سوال

سائل نے ڈیڑھ سال قبل ذاتی استعمال کے لیے چند بٹوے  خرید ے تھے ، ایک بٹوہ استعمال میں رہا جب وہ قابل استعمال نہ رہا تو دوسرے  بٹوے  اٹھائے جس میں ایک غیر مستعمل نئے  بٹوے سے 50ہزار نقدی نکلی۔اور سائل کویہ یاد نہیں کہ وہ اس کے ذاتی ہیں یا کہاں سے آئے ؟ نیز سائل کی اس طرح رقم رکھنے کی عادت بھی ہے اور جس سے یہ بٹوے خریدے گئے اس سے رابطہ ممکن نہیں ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس نقدی کا شرعی حکم ومصرف کیا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ اس   رقم  کے بارے میں  خوب غور کریں،اگر آپ کو یقین یا ظن غالب ہو جائے کہ یہ رقم آپ کی ہے تو یہ رقم آپ  استعمال کر سکتے ہیں  اور اگر آپ کا ظن غالب یہ ہو کہ یہ رقم آپ کی نہیں ہے یا شک ہو کہ معلوم نہیں میری ہے یا کسی اور کی ہے اور وہاں آنے جانے والوں سے آپ نے پوچھ بھی لیا ہو  کہ کسی نے یہ رقم بٹوہ میں نہیں رکھی ،اور انہوں نے لاعلمی ظاہر کی  تو یہ رقم لقطے کے حکم میں ہوگی ،جس کا حکم یہ ہے کہ آپ کسی مستحق زکوۃ کو اصل مالک کی طرف سے نیت کر کے صدقہ کردیں ۔ واضح رہے کہ آپ کے صدقہ کرنے کے بعد اگر اس رقم کے مالک کا  علم ہوجائے تو اس کو صورت حال بتانی ہوگی ،پھر اگر وہ  راضی ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ آپ کو یہ رقم اسے واپس کرنا ہوگی۔
الأشباه والنظائر،لابن نجيم (1/222،223)ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ
وأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو الطرف الراجح إذا أخذ به القلب، وهو المعتبر عند الفقهاء كما ذكره اللامشي في أصوله وحاصله: أن الظن عند الفقهاء من قبيل الشك؛ لأنهم يريدون به التردد بين وجود الشيء وعدمه سواء استويا، أو ترجح أحدهما،وكذا قالوا في كتاب الإقرار: لو قال: له علي ألف درهم في ظني لا يلزمه شيء؛ لأنه للشك (انتهى) وغالب الظن عندهم ملحق باليقين، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم في الأبواب۔
الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(5/ 313)رشیدیۃ
(الباب الثاني في العمل بغالب الرأي) يجب أن يعلم بأن العمل بغالب الرأي جائز في باب الديانات، وفي باب المعاملات، وكذلك العمل بغالب الرأي في الدماء جائز، كذا في المحيط۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(4/ 279)ایچ۔ایم۔سعید
(فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه. .. . (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس