بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تین طلاقیں دینے کے بعد ایک ساتھ رہنا

سوال

 زید نے اپنی بیوی ہندہ کو بوجہ مطالبہِ قرض تین طلا قیں دی، ہوا یوں کہ زید نے ہندہ سے قرض لیا تھا بعد ازاں جب ہندہ نے واپسی کا مطالبہ کیا تو زید نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔اس صور تحال کے پیش آنے کے بعد ہندہ کو اس  کےغیر مقلد بھائی نے یہ فتوی لے کر دیا کہ تین طلاقیں واقع نہیں ہوئیں ۔
مذکورہ بالا فتوی کے بعد زید نے ہندہ سے ازدواجی تعلقات از سر نو قائم کر لیے۔ غیر مقلد بھائی نے غیر مقلدیت ترک کرکے مسلک حنفی اختیار کر لیا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کے بھائی کے مسلک حنفی اختیار کر لینے کے بعد اور اس پر پختہ ہوجانے کے بعد اپنے سابقہ فتوی پر نادم و شرمندہ ہے ایسی صورت میں فریقین کیلئے شریعت اسلامیہ کا حکم بیان فرمادیں۔

جواب

تین طلاقیں واقع ہو جانے کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ باہمی ازدواجی تعلقات قائم رکھناقرآن و سنت، صحابہ کرام و تابعین رضی اللہ عنہم کے عمل اور اجماع امت کے خلاف ہے اور سخت گناہ ہے اس لئے صورت مسئولہ میں ہندہ کے بھائی پر لازم ہے کہ صدق دل سے اپنے فعل پر توبہ کرے اور اللہ تعالی سے معافی مانگے اسی طرح زیداور ہندہ دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں اور خوب گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے تو بہ واستغفار کریں۔ انشاء الله الله تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے عفو و درگزر اور بخشش کا معاملہ فرمائیں گے ۔
قال اللہ تعالی
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه} [البقرة: 230]
صحيح البخاري،محمد بن اسماعیل(م:256ھ)(2/792)محمودیۃ
كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»۔
فتح القدير، ابن الهمام (م:861ھ)(3/451)رشیدیۃ
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا۔

واضح رہے کہ تین طلاقیں واقع ہوجانے کے بعد عورت کی کسی دوسرے شخص سے شادی کروانا اور اس کے ساتھ یہ شرط لگانا اور پہلے سے یہ طے کرنا کہ کچھ عرصہ اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد آپ اس کو طلاق دے دیں تاکہ بعد میں پہلا شوہر دوبارہ اس سے شادی کرلے جسے عرف عام میں حلالہ کروانا کہتے ہیں یہ ناجائز اور سخت گناہ ہے اور ایسا کرنے پر حدیث شریف میں پہلے شو ہر پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے اور دوسرے شوہر پر بھی۔ اس لئے اس طریقے سے اجتناب کرنا ضروری ہے حلالہ کا درست اور شرعی طریقہ یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں ہندہ، زید سے علیحدگی کے بعد عدت گزار کر اپنی پسند اور ولی کی رائے کے مطابق  دوسرے شخص سے شادی کر لے،ہمبستری کے بعد وہ دوسرا شوہر فوت ہو جائے یا اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو عدت گزار کر ہنده  دوبارہ سے زید کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔

 الموسوعة الفقهية،ھیئۃ کبار علماء الاسلام(10/ 255)علوم الاسلامیۃ
أما إذا طلق زوجته ثلاثا، فإن الحكم الأصلي للطلقات الثلاث هو زوال ملك الاستمتاع وزوال حل المحلية أيضا، حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر، لقوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} .بعد قوله تعالى: {الطلاق مرتان}۔
   الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (3/ 414)ایچ۔ایم۔سعید
(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس