قال اللہ تعالی
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه} [البقرة: 230]
صحيح البخاري،محمد بن اسماعیل(م:256ھ)(2/792)محمودیۃ
كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»۔
فتح القدير، ابن الهمام (م:861ھ)(3/451)رشیدیۃ
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا۔
واضح رہے کہ تین طلاقیں واقع ہوجانے کے بعد عورت کی کسی دوسرے شخص سے شادی کروانا اور اس کے ساتھ یہ شرط لگانا اور پہلے سے یہ طے کرنا کہ کچھ عرصہ اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد آپ اس کو طلاق دے دیں تاکہ بعد میں پہلا شوہر دوبارہ اس سے شادی کرلے جسے عرف عام میں حلالہ کروانا کہتے ہیں یہ ناجائز اور سخت گناہ ہے اور ایسا کرنے پر حدیث شریف میں پہلے شو ہر پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے اور دوسرے شوہر پر بھی۔ اس لئے اس طریقے سے اجتناب کرنا ضروری ہے حلالہ کا درست اور شرعی طریقہ یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں ہندہ، زید سے علیحدگی کے بعد عدت گزار کر اپنی پسند اور ولی کی رائے کے مطابق دوسرے شخص سے شادی کر لے،ہمبستری کے بعد وہ دوسرا شوہر فوت ہو جائے یا اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو عدت گزار کر ہنده دوبارہ سے زید کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔