سود کی تعریف جو علماء بیان کرتے ہیں کہ پیسے پر پیسہ لیا جائے اور اس پر کچھ زائد لیا جائے تو زائد جو لیا گیا ہے وہ سود ہے اور ساتھ ہی یہ حکم واضح ہے کہ جنس کی تبدیلی سے حکم بدل جاتا ہے۔مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بیرون ملک کی کرنسی کا لین دین پاکستانی کرنسی سے کیا جاتا ہے تو آیا آج پاکستانی کرنسی کاریٹ کچھ اور ہے اور بیرونی کرنسی کا کچھ اور ،آپ اپنی بیرونی کرنسی کے عوض پاکستانی کرنسی کو انویسمنٹ کرتے ہیں اور وہ زائد رقم لے کر واپس آتی ہے حالانکہ تبدیلی کرنسی کے بدلے میں کرنسی تبدیل ہوئی ہے وہ زائد رقم آیا سود کے زمرے میں آئے گی یا نہیں ؟
دو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کو شرعا الگ الگ جنس شمار کیا جاتا ہے اس لئے جب دو مختلف ملکوں کی کرنسی کا آپس میں تبادلہ ہو تو تفاضل(کمی،پیشی)جائز ہے اور یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ،البتہ بوقت تبادلہ بدلین(کرنسیوں)میں کسی ایک پر قبضہ ضروری ہے ۔نیز حکومت کی جانب سے کرنسیوں کے مقرر کیے گئے ریٹ (قیمت)سے زیادہ کے ساتھ تبادلہ کرنااگرچہ شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں تاہم ملکی قوانین اور اپنے امیر کی اطاعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے نامناسب ہے۔
ملحوظہ:واضح رہے کے سود کی تعریف علماء نے یہ کی ہے کہ”پیسوں کی متعین مقدار خاص مدت کے لیے ادھار دے کر واپس لیتے وقت متعین شرح کے ساتھ نفع یا زیادتی کا مطالبہ کرنا”۔لفظ ربا اور سود میں فرق ہے،ربوااپنے اندر وسیع مفہوم رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت سی صورتوں کو شامل ہے ،اگرچہ عرف عام میں ربوا کا ترجمہ سود کے ساتھ کیا جاتا ہے یہ اردو کی تنگ دامن گیری ہے کہ اس کا ترجمہ خاص لفظوں کے ساتھ وضع نہیں ہوا۔(ماخذہ:مسئلہ سود،حظرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ)