بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر کی جانب سے عورت کو ملنے والی چوڑیوں میں ملکیت کا حکم

سوال

میری شادی 3 سال قبل ہوئی تھی شادی کے چند ما ہ بعد اختلافات پیدا ہو گئے تھےایک سال بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی مگر اختلافات مزید پیدا ہوتے گئے۔ خاندان کے  لوگوں نے مفاہمت کی کوشش کی لیکن بے سود۔اس کے بعد وہ   اپنے گھر چلی گئیں  اور جاتے ہوئے یہ کہہ کر کہ اب واپس نہ آنے کے لیے جا رہی ہوں اور یہ بھی کہا کہ میں نے اپنے گھر والوں کو اطلاع کر دی ہے کہ میں واپس نہ جانے کے لیے آ رہی ہوں خاندان کے بڑے لوگوں نے اس دوران مفاہمت کی کوششیں بھی کیں لیکن جب کوئی صورت سامنے  نہیں آئی تو خاندان والوں کے معلوم کرنے پر لڑ کی کا یہ آخری جواب تھا کہ آپ میرا فیصلہ کر وادیں میں مزیدنہیں رہنا چاہتی ہوں ۔ اس کے بعد لڑکی والوں نے جھوٹ پر مبنی عدالت میں مقدمہ درج کروا دیا اور جہیز کی اشیاء کو بڑھا چڑھا کر مانگا ۔ عدالت نے تقریبا2 سال بعد مقدمہ کا فیصلہ کر دیا ۔ عدالت نے جھوٹ پر مبنی اشیاء کو ختم کر کے فیصلہ کیا کہ جو چیزیں حقیقت  میں دی ہیں وہ واپس کردے اور مہر کی رقم ادا کر دیں ۔بچی  کاجو  خرچہ عدالت نے طے کیا ہے یہ سب میں ادا کر رہا ہوں مجھے والد صاحب کی طرف سےماہانہ 8000 ملتا ہے جب کہ نکاح کے وقت والد صاحب  نےجو چوڑیاں دی تھی وہ میں نے دو سال قبل فروخت کرکے وکیل پر اور عدالت کا خر چہ کر رہا ہوں بلکہ ان چوڑیوں کو نہ نکاح کے وقت لڑکی کے نام کیا تھا نہ بعد میں لیکن صرف چڑھایا  تھا ۔ شرعی طور پر اس کی کیا حیثیت ہے مجھے بتادیں ؟

جواب

اگر سوال میں ذکر کردہ چوڑیاں آپ نے اپنی بیوی کو مالک بنا کردی تھی تو وہ عورت کی ہیں اور اگر عاریۃً دی تھی تو وہ چوڑیا ں آپ کی ہی ہيں  عورت کی نہیں ہيں۔ اور اگر دیتے وقت ملکیت یا عاریت کی کوئی تصریح نہیں تھی تو رواج اور عرف کا اعتبار ہوگا کہ اگر رواج تملیک کا ہے تو وہ زیور عورت کا ہے جیسا کہ ہمارا  رواج ہے، اور اگر دونوں طرح کا رواج ہے اور عورت کے پاس تمیلک (مالک بنانے) کے گواہ بھی نہیں تو آپ کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(3/ 151)رشیدیۃ
(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها، فإن حلف والمبعوث قائم فلها أن ترده وترجع بباقي المهر۔
    الفتاوى الهندي،لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 359)بيروت
وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية. جهز بنته وزوجها ثم زعم أن الذي دفعه إليها ماله وكان على وجه العارية عندها وقالت: هو ملكي جهزتني به أو قال الزوج ذلك بعد موتها فالقول قولهما دون الأب وحكى عن علي السغدي أن القول قول الأب وذكر مثله السرخسي وأخذ به بعض المشايخ وقال في الواقعات إن كان العرف ظاهرا بمثله في الجهاز كما في ديارنا فالقول قول الزوج، وإن كان مشتركا فالقول قول الأب، كذا في التبيين۔
فتح القدير،محمد بن عبد الواحد  ابن ھمام(م:861ھ)(3/ 379)رشیدیۃ
(ومن بعث إلى امرأته شيئا فقالت هو هدية وقال الزوج هو من المهر فالقول قوله) ؛ لأنه هو المملك فكان أعرف بجهة التمليك، كيف وأن الظاهر أنه يسعى في إسقاط الواجب. قال (إلا في الطعام الذي يؤكل فإن القول قولها) والمراد منه ما يكون مهيأ للأكل؛ لأنه يتعارف هدية، فأما في الحنطة والشعير فالقول قوله لما بينا، وقيل ما يجب عليه من الخمار والدرع وغيرهما ليس له أن يحتسبه من المهر؛ لأن الظاهر يكذبه، والله أعلم۔
الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(1/ 322)بیروت
ومن بعث إلى امرأته شيئا فقالت: هو هدية وقال هو من المهر فالقول قوله في غير المهيأ للأكل كالشواء واللحم المطبوخ والفواكه التي لا تبقى فإن القول قولها فيه استحسانا بخلاف ما إذا لم يكن مهيأ للأكل كالعسل والسمن والجوز واللوز هكذا في التبيين. وذكر الفقيه أبو الليث المختار أن القول قوله في متاع لم يكن واجبا على الزوج كالخف والملاءة ونحوه وفي متاع كان واجبا عليه كالخمار والدرع ومتاع الليل؛ فليس له أن يحتسب من المهر، كذا في محيط السرخسي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس