بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بینک کے ملازم کے ہاں کھانے پینے کا حکم

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ کیا اسلامی و غیر اسلامی بنک کے ملازم کی طرف سے پیش کی گئی دعوت میں شرکت کی جاسکتی ہے؟

جواب

بینک کا ایسا ملازم جس کا  کام سودی معاملات کرنے یا ان کی لکھائی یا حساب وغیرہ سے ہے اس کی اجرت حلال نہیں۔ اگر اس کی آمدنی کا کوئی اور جائز ذریعہ نہیں تو اس کے ہاں دعوت قبول کرنے سے اجتناب کیا جائے اور اگر کسی اور جائز آمدنی کے ذریعہ کی وجہ سے اس کا اکثر مال حلال ہے تو اس صورت میں دعوت قبول کرنے کی گنجائش ہے۔
الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی (5/ 342)رشیدیۃ
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل۔
   الفتاوى الهندية،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی (5/ 343)رشيدية
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس