بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سوسائٹیوں كی فائلوں كی خريدوفروخت كرنا

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ مختلف سوسائٹیاں لوگوں سے کچھ رقم لے کر  گاہک کوپلاٹ دینے کا وعدہ کرتی ہیں جو ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے بعد الاٹ ہوتا ہے اور الاٹمنٹ سے قبل لوگ ان فائلوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ کیا الاٹ سے قبل پلاٹ کا وعدہ دے کر فائلوں کی خرید و فروخت جائز ہے ؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ فائلوں کی خرید و فروخت درجہ ذیل تین شرائط کے ساتھ جائز  ہے ۔
الف۔ پلاٹ فروخت کرنے والے ادارے نے جتنی زمین کی فائلیں فروخت کی ہیں اتنی زمین بوقت فروخت اس کی ملک میں ہونا ضروری ہے ۔عموماً ایسے ادارے فائلیں زیادہ فروخت کر دیتے ہیں لیکن ان کی ملکیت میں زمین کم ہوتی ہے اس صورت میں مملوکہ زمین سے زائد کی فائلوں کی خرید و فروخت ناجائز ہوگی۔
ب۔ فائل کی فروختگی کے وقت زمین کی مقدار اور قیمت طے کرلی جائے کوئی ایسا ابہام نہ رکھا جائے جو بعد میں نزاع کا سبب بنے۔
ج۔قسطوں میں قیمت کی ادائیگی کی صورت میں بر وقت قیمت ادائیگی نہ کرنے پر کسی قسم کا جرمانہ یا  سرچارج عائد نہ کیا جائے۔
الدر المختار،علاءالدین الحصکفی(م:1088ھ)(4/ 544)ایچ۔ایم۔سعید
(وقد بيع عشرة أذرع من مائة ذراع من دار) أو حمام وصححاه وإن لم يسم جملتها على الصحيح۔
ردالمحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(4/ 544)ایچ۔ایم۔سعید
(قوله: من دار أو حمام) أشار إلى أنه لا فرق بين ما يحتمل القسمة وما لايحتملها۔
 ردالمحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(4/545)ایچ۔ایم۔سعید
ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي۔
شرح المجلۃ،رستم باز(مادۃ:198)بیروت
(يلزم أن يكون المبيع مقدور التسليم) فبیع غیر مقدور التسلیم باطل…قال القردی عن جواهر الفتاوی :باع عقارًا ملکه لکن فی يد آخرالفتوی علی أنه لا يصح عملاً بقول محمد؛ لأنه لا يقدر علی تسليم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس