بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایسی دوا کا استعمال جس میں خراطین (کیچوا) نامی کیڑا ملايا ہوا ہو

سوال

خراطین جو کہ ایک کیڑا ہے اور زیر زمین رہتا ہے اس کو بطور دوا کے استعمال کرنا شرعی اعتبار سے  اس کا کیا حکم ہے؟نیز یہ کیڑا بے اولاد حضرات داوئی  میں بطور علاج کھاتے ہیں۔

جواب

دوا میں کیچوا

جس دوائی میں مذکورہ کیڑا استعمال کیا جاتا ہے اس دوائی کا کھانا یا پینا جائز نہیں، کیونکہ تمام کیڑےاور حشرات الارض حرام ہیں، البتہ حرام جانور اور حرام اشیاء دواءً استعمال کرنا اس وقت جائز ہوتا ہے جب کوئی مسلمان  طبیب  حاذق یہ کہہ دے کہ اب اور کوئی دوا نافع نہیں رہی۔ واضح رہے کہ خراطین(کیچوا) کا اثر حاصل کرنے کا جائز طریقہ یہ ہے کہ آپ مرغی کے بچوں کو خراطین(کیچوا) کھلائیں اور کچھ ماہ گزرنے کے بعد ان مرغی کے بچوں کو کھالیں ۔ بحوالہ :کفایت المفتی(12/459)ادارۃ الفاروق کراچی
سنن أبي داود،سلیمان بن اشعث السجستانی(م:275ھ)(2/184)لدھیانوی
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله أنزل الداء والدواء، وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام»۔
الفتاوى الهندية ،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(5/ 289)رشیدیۃ
فما لا دم له مثل الجراد والزنبور والذباب والعنكبوت والخنفساء والعقرب والببغاء ونحوها لا يحل أكله إلا الجراد خاصة، وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهو امّ الأرض من الفأر والجراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(5/ 228)ایچ۔ایم۔سعید
وما قيل إن الاستشفاء بالحرام حرام غير مجرى على إطلاقه وأن الاستشفاء بالحرام إنما لا يجوز إذا لم يعلم أن فيه شفاء أما إن علم وليس له دواء غيره يجوز۔
   حياة الحيوان الكبرى،محمد بن موسى الدميري(م: 808ه)(1/ 407)دارالکتب العلمیۃ
الخراطين:قيل: هي الأساريع، والصواب أنها شحمة الأرض وستأتي إن شاء الله تعالى في باب الشين المعجمة وقيل: إنها العلق الكبار الطوال التي تكون في المواضع الندية من الأرض۔
حياة الحيوان الكبرى، محمد بن موسى الدميري(م: 808ه)(2/ 70) دارالکتب العلمیۃ
شحمة الأرض: دويبة إذا مسها الإنسان تجمعت وصارت مثل الخرزة. وقال القزويني، في الأشكال: إن شحمة الأرض تسمى بالخراطي وهي دودة طويلة حمراء، توجد في المواضع الندية۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (5/ 228)ایچ۔ایم۔سعید
وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاءه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس