اگر کسی شخص کو خواب کے اندر کوئی درود شریف بتایا جائے پھر وہ لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اس کی ترغیب دے اور پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کرے حالانکہ احادیث صحیحہ میں کثرت سے درود شریف آئے ہیں ان کو وہ چھوڑ کر خواب والے درود شریف کی ترغیب دے لہذا قرآن و حدیث اور صحابہ رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی زندگی کی روشنی میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں؟
واضح رہے کہ خواب سے کوئی ایسا حکم ثابت نہیں ہوتا جو پہلے کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو، (یعنی خواب کوئی حجت شرعیہ نہیں ) ۔لہذا اگر کوئی شخص خواب کا حوالہ دےکر درود شریف کے ایسے الفاظ نقل کرے جن کا معنی درست نہ ہو یا اس میں غلط عقیدے یا نظریہ کی طرف اشارہ ملتا ہو، تو ہرگز ایسے کلمات صلوٰۃ کو پڑھنا یا اس کی اشاعت کرنا جائز نہ ہوگا۔ البتہ اگر خواب کے ذریعہ ایسے کلمات درود نقل کئے جائیں جن کے معنی میں کسی طرح کا فساد نہ ہو، تو اس کے پڑھنے کی گنجائش ہے۔جیسا کہ قطب الاقطاب شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ اپنی کتاب فضائل درود شریف میں سلف کے بہت سے ایسے واقعات و حکایت نقل کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ایسے درود کے کلمات و صیغے القاء کیے جاتے رہے ہیں ، جن کے معنی بھی درست ہے ، اور انہی درود کا پڑھنا ان کیلئے مغفرت کا ذریعہ بن گیا ۔مثلا امام شافعی کو درودِخمسہ القاء کیا گیا تھا جو آپ جمعہ کی رات میں پڑھا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ اس میں کسی قسم کا تردد نہیں کیا جاسکتا،البتہ حدود شریعت کی رعایت و پاسداری ہر حال میں ضروری ہے(فضائل درود شریف،ص:154،طبع بیروت)۔ لیکن ایسے درود کی فضلیت کو احادیث میں منقول درود کی طرح معتبر سمجھنا ہرگز جائز نہیں ، اگر اس کو اس طرح باعث ثواب اور فضیلت سمجھا جائے تو یہ بدعت ہے ۔ اسی طرح ان ہی صیغ صلوات کو پڑھنے اور ترویج دینے کا اہتمام کرنا چاہیےجو نبی ﷺسے احادیث مبارکہ میں ثابت اور منقول ہیں ، دوسرے کلمات سے اس کی خیر و برکت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔(امداد السائلین1/428،ط:ادارۃ المعارف -جواہر الفقہ2/17،ط: دار العلوم کراچی -فتاوی عثمانی1/253،ط:معارف القرآن – امداد الفتاوی 1/540، دار الاشاعت)
سنن الترمذي،محمد بن عیسی الترمذی(م:279ھ)(2/52،53)یادگار شیخ
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب، وأصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا، ورؤيا المسلم جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة. والرؤيا ثلاث: فالرؤيا الصالحة بشرى من الله، والرؤيا من تحزين الشيطان، والرؤيا مما يحدث بها الرجل نفسه فإذا رأى أحدكم ما يكره فليقم وليتفل ولا يحدث بها الناس قال: وأحب القيد في النوم وأكره الغل القيد: ثبات في الدين۔
الاعتصام للشاطبي،ابراہیم بن موسی(م:970ھ) (2/ 93) المملكة العربية السعودية
أن الرؤيا من غير الأنبياء لا يحكم بها شرعا على حال، إلا أن نعرضها على ما في أيدينا من الأحكام الشرعية، فإن سوغتها عمل بمقتضاها، وإلا وجب تركها والإعراض عنها، وإنما فائدتها البشارة والنذارة خاصة، وأما استفادة الأحكام فلا۔
تکملۃ فتح الملھم،محمد تقی العثمانی(4/263)دارالعلوم الکراتشی
فاما معنی کون الرؤیا جزء من النبوۃ فھو أن النبوۃ تتضمن معانی کثیرۃ منھا الإخبار ببعض ما سیکون أو ببعض ما وقع فی الغیب بطریق العلم الجزئی الحاصل من اللہ تعالی وإن الرؤیا الصادقۃ التی یراھا المؤمن ربما تتضمن ھذا الجزء ولکن لا یستلزم ذلک أن یسمی الرائی نبیا أو رؤیاہ نبوۃ۔
بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية ،أبوسعید الخادمی(م:1156ھ)(1/ 108)مطبعۃالحلبی
اتفقوا على أن الإلهام لا يكون حجة في إثبات شيء من الأحكام على وجه يستغنى به عن الكتاب والسنة بل إنما يكون طريقا صحيحا لفهم معانيهما وذلك إنما يحصل بالعمل بمقتضى الاجتهاد الفقهي وإلا فوسوسة كما في المواهب اللدنية،وأما الاحتجاج بقصة موسى مع الخضر – عليهما السلام – على الاستغناء عن الوحي بالعلم اللدني الذي من قبيل الإلهام فقيل كفر موجب لإراقة الدم؛ لأن موسى – عليه الصلاة والسلام – لم يكن مبعوثا إلى الخضر ولم يكن الخضر مأمورا بمتابعته (وكذلك الرؤيا في المنام) في عدم كونها من أسباب معرفة الأحكام۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(1/ 53)ايچ۔ايم۔سعيد
(قوله: لأنه روي بطرق مختلفة) بسطها العلامة طاش كبرى، فيشعر بأن له أصلا، فلا أقل من أن يكون ضعيفا فيقبل؛ إذ لم يترتب عليه إثبات حكم شرعي، ولا شك في تحقق معناه في الإمام فإنه سراج يستضاء بنور علمه ويهتدى بثاقب فهمه۔