بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کاروبار میں لگائی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم اور طریقہ

سوال

میں نے ایک صاحب کےساتھ رنگ(پینٹ،ماسٹر پینٹ)کے کاروبار میں دو سال سے 10 لاکھ روپے کا شیئر ڈالا ہےجس کا مہینے کا منافع ہمیں کبھی 15000 اور کبھی 500، 5 1ملتا ہے، ان دو سالوں میں ہم نے زکوة ادا نہیں کی۔ جتنا منافع آتا ہے ماہانہ خرچ ہو جاتا ہے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرتے اور میرے پاس فی الحال سونا،چاندی کچھ بھی نہیں ہے۔ برائے مہربانی آپ یہ بتائیں کہ زکوة 10 لاکھ پر بنتی ہے یا 15000 پر، سالانہ اور مہینے دونوں کاحساب واضح کردیں۔ وہ صاحب صرف اپنے حصہ کی زکوۃ ادا کرتے ہیں، ہمارے حصہ کی نہیں ۔ آیا  ہمیں بھی اپنے منافع پر زکو ۃادا کرنی ہوگی یا نہیں؟

جواب

آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ10 لاکھ کے آپ مالک ہیں ، اور یہ رقم صاحب نصاب ہونے کے لئے کافی ہے، کیونکہ یہ مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے بہت زیادہ ہے، چنانچہ کاروبار میں لگائی گئی رقم کی زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جس تاریخ کو آپ صاحب نصاب بنے تھے ، اگر وہ تاریخ یاد ہو تو اسی تاریخ کو ، ورنہ اندازہ اور سوچ و بچار کے ساتھ ایک تاریخ قمری مہینہ کے اعتبار سے متعین کرلیں، پھر ہر سال یہ تاریخ آنے پر دوکان میں موجود کل سامان کی ہول سیل قیمت فروخت کے اعتبار سے مالیت کا حساب لگا کر اس سے اپنے حصے کی مالیت پر زکوۃ(ڈھائی فیصد ) اداء کریں۔ واضح رہے کہ کہ گذشتہ سالوں کی زکوۃ بھی اسی طرح حساب کر کے اداء کرنا ہوگی۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/ 303)ایچ۔ایم۔سعید
(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(2/ 303)ایچ۔ایم۔سعید
أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره۔
 بدائع الصنائع،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ)(2/109)علمیۃ
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء۔
                        الموسوعة الفقهية الكويتية،ھیئۃ کبار علماء الاسلام(23/ 243)علوم الاسلامیۃ چمن
إن لم يكن عند المكلف مال فاستفاد مالا زكويا لم يبلغ نصابا فلا زكاة فيه ولا ينعقد حوله، فإن تم عنده نصاب انعقد الحول من يوم تم النصاب، وتجب عليه زكاته إن بقي إلى تمام الحول۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس