ایک عورت طلاق ثلاثہ کے بعد تین ماہ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے اپنا نکاح ثانی خودکر سکتی ہے ؟ کیونکہ وہ عاقلہ بالغہ ہے۔ اور کیاسابقہ شوہر کےساتھ نکاح درست ہونے کےلئے نکاح ثانی میں ہمبستری ضروری ہے؟ جبکہ نکاح ثانی کے نکاح نامہ میں دوسرے شوہر کی طرف سے اُسے خلع(اپنی دعوہ عدالت درج کرنے ) کا اختیار حاصل ہے ۔
صورت مسئولہ میں عورت پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلط ثابت ہو چکی ہے۔ لہذا اب وہ عدت گزارنے کے بعد شرعی حدود و احکامات کے دائرہ میں رہتے ہوئے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، اسے پہلے شوہر کے ساتھ شادی کروانے کی غرض سے کسی خاص شخص کے ساتھ شادی کروانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح ہو جانے کے بعد اسے دوسرے شوہر سے نکاح ختم کروا کے یا خلع کروا کے پہلے شوہر کے ساتھ شادی کروانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے البتہ اگر وہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کرے اور ہمبستری کے بعد وہ دوسرا شوہر فوت ہو جائے یا کسی وجہ سے اسے طلاق دیدے تو عدت گزار نے کے بعد وہ اپنی مرضی سے نئے مہر کے عوض پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اگر مطلقہ عورت کو ماہواریاں آتی ہوں تو اس کی عدت تین ماہواریاں ہیں اور اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ کی پیدائش ہے ورنہ اس کی عدت تین مہینے ہے۔ تین طلاق کے بعد مذکورہ عورت پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہمبستری نہ کرلے۔