بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیٹی کی امانت والدہ سے چوری ہو جائے تو ضمان آئےگا یا نہیں؟

سوال

شادی شدہ بیٹی نے زیور بطور امانت کے اپنی والدہ کے پاس رکھوایا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مذکورہ زیور والدہ سے چوری ہو گیا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ والدہ پر مذکورہ زیور  کا تاوان آئے گا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر والدہ نے اپنی ہمت وطاقت کے بقدر زیور کی حفاظت کا اہتمام کیا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی تو اس پر تاوان نہیں آئے گا لیکن اگر اس نے زیور کی حتی المقدورحفاظت نہیں کی تو اس پر تاوان آئے گا ۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (5/ 664)رشیدیۃ
(ہی أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها۔
العناية شرح الهداية،محمد بن محمد بن محمود(م:786ھ)(8/ 485)دار الفکر
قال (الوديعة أمانة في يد المودع إذا هلكت لم يضمنها) لقوله – عليه الصلاة والسلام – «ليس على المستعير غير المغل ضمان ولا على المستودع غير المغل ضمان» ولأن بالناس حاجة إلى الاستيداع، فلو ضمناه يمتنع الناس عن قبول الودائع فتتعطل مصالحهم۔
  شرح المجلة،سليم رستم باز(مادة:777)بيروت
الوديعة أمانة في يد المودَع، فإذا هلكت بلا تعد منه و بدون صنعه و تقصيره في الحفظ لايضمن، ولكن إذا كان الإيداع بأجرة فهلكت أو ضاعت بسبب يمكن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس