اصل جواب سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ مفتی غیب نہیں جانتا بلکہ وہ جواب دینے میں سائل کے سوال کا پابند ہوتا ہے سوال کے درست یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہے لہذا اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر واقعہ کی صحیح صورت حال کو بیان کرنا میاں بیوی کی ذمہ داری ہے۔ صورت مسئولہ میں شوہر کا بیان یہ ہے کہ میں نے صرف ایک مرتبہ ” تو میری طرف سے فارغ ہے، کے الفاظ کہے، اور شوہر اس پر حلفیہ بیان دینے کے لئے تیار ہے، جبکہ دوسری طرف بیوی کا بیان یہ ہے کہ شوہر نے مجھے تین دفعہ طلاق ، طلاق ، طلاق کہا ہے۔اس صورت حال میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر بیوی نے واقعتاً اپنے کانوں سے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے ہیں تو اب اس کے لئے اپنے شوہر کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رہنا کسی طرح جائز نہیں، اس پر واجب ہے کہ شوہر سے علیحدہ رہے اور انہیں وظائف زوجیت کا موقع نہ دےاور جب بیوی کے لئے شوہر کے ساتھ رہنا کسی طرح جائز نہیں تو شوہر کو بھی چاہئے کہ بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار نہ کرے تاکہ بیوی کو گناہ میں مبتلا کرنے کا سبب نہ بنے۔ دیانت کا حکم یہی ہے اور اب اسی میں فریقین کے لئے عافیت اور بہتری ہے۔ اور اگر اس کے باوجود شوہر بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار کرے تو اس صورت میں شرعی عدالت یا شرعی پنچایت سے رجوع کیا جائے۔