زید نے عوامی چندہ بشمول زکوۃ بعد از تملیک رقم سے مثلاً ایک لاکھ روپے سے بنیت مدرسۃ القرآن پانچ مرلہ جگہ خریدلی رقم کی کمی کی باعث تعمیر نہ ہو سکی ۔ اب زید نے دوبارہ چندہ کر کے بشمول رقم زکوۃ مثلاً ایک لاکھ روپے جمع کر کے کاروبار میں لگا دیے تا کہ قدرے منافع حاصل ہو جائے اور تعمیر کیلئے چند عرصہ میں قدرے رقم جمع ہو جائے تو تعمیر شروع کی جا سکے۔ اب مذکورہ عبارت سے چند سوال کا جواب مطلوب ہے ۔
نمبر۱۔آیا زید تملیک شده رقم کو تجارت میں بنیت منافع لگا سکتا ہے؟
نمبر ۲۔آیا جمع شدہ رقم پر سال بعد زکوۃ فرض ہو گی ؟
نمبر ۳۔ آیا تجارت سے حاصل شدہ منافع پر بھی سال بعد زکوۃ آئی گی یا نہیں ؟
نمبر ۴۔زید کا یہ طریقہ کار مدرسۃ القرآن بنانے کیلئے کس حد تک شریعت کے موافق ہیں؟
تنقیح: سائل نے فون پرتملیک کے بارے میں بتایا کہ ہم تملیک کا یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ رقم دینے والےطلباء کے لئے رقم دیتے ہیں ہم اپنے شاگرد طلباء کے علاوہ کسی اور طالب علم کو یہ رقم مالک بنا کر دے دیتے ہیں اور ساتھ ہی ہم اس کو مدرسہ کی ضرورت کی بناء پر ترغیب بھی دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں ضرورت ہے ۔ وہ طالب علم مذکورہ رقم لے کر چلا جاتا ہے اور عموماً کچھ دن وہ رقم اپنے پاس رکھ کر اپنی مرضی سے کچھ رقم خود رکھ لیتا ہے اور باقی مدرسہ میں تعمیر کے لئے صدقہ کر دیتا ہے۔
مدرسہ میں آنے والی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جس مد میں وہ رقم دی گئی ہے اسی مد میں وہ رقم لگائی جائے کسی ذریعہ آمدنی میں نہ لگائی جائے کیونکہ چندہ دینے والوں نے یہ رقم مدرسہ کی ضروریات میں استعمال کرنے کے لئے دی ہے کسی کا روبار میں لگانے کے لئے نہیں دی اور حتی الامکان چنده دینے والوں کی منشاء کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں تملیک کا جائز طریقہ اختیار کرنے کے بعد مدرسہ کو دیا گیا چندہ مدرسہ کی ضروریات اور مصارف میں ہی صرف کیا جائے کاروبار میں نہ لگایا جائے اوراگر لگا دیا ہے تو اسے کاروبار سے نکال کر اس سے مدرسہ کی جس قدر تعمیر ممکن ہے اس میں صرف کیا جائے۔ البتہ اگر چندہ دہندگان کاروبار میں لگانے کی اجازت دیں تو ایسی صورت میں کاروبا میں لگانے کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ مدرسہ کے لیے دیئے گئے چندہ میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (4/ 400)ایچ۔ایم۔سعید
شرط الواقف كنص الشارع۔
بدائع الصنائع،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ)(2/88)علمية
وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك۔
خلاصۃ الفتاوی،طاہر بن عبد الرشید(م:542ھ)(4/422)رشیدیۃ
رجل قال جعلت حجرتی لدھن سراج المسجد ولم یزد علی ھذا صارت الحجرۃ وقفا علی المسجد ،إذا سلمھا إلی المتوفی ولیس للمتولی أن یصرف غلتھا إلی غیر الدھن۔