اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کو” طلاقی کے بچے” یعنی مطلقہ کے بچے کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا یا چوپائیں کو ایسے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا جن کا اردو زبان میں ترجمہ یہ ہے “تیری خدمت کرنے والی کو طلاق ” اور حال یہ ہے کہ خدمت کرنے والی اس کی بیوی ہے ۔اس قسم کے الفاظ سے اس کی طلاق کی نیت نہ ہو، اور اس علاقے کے عرف میں یہ الفاظ زجر و تو بیخ کے لیے استعمال ہوتے ہوں، کیا ان قسم کے الفاظ کے تکلم سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ میرے پیش نظر خاص صورت مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے گاؤں میں لوگ یہ الفاظ عام استعمال کرتے ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ الفاظ میں سے پہلے لفظ سے طلاق واقع ہونے کے حوالہ سے تفصیل یہ ہےکہ اگر یہ لفظ استعمال کرنے والے شخص نے پہلے کبھی طلاق نہیں دی اور نہ ہی عورت پہلے کسی اور شخص سے مطلقہ ہے تو ان الفاظ سے ایک طلاق رجعی ہو جائیگی کیونکہ یہ صریح لفظ ہے اور صریح لفظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر ان الفاظ کے استعمال سے پہلے طلاق دی ہوئی ہے تو ان الفاظ سے مزید طلاق نہیں ہو گی بشرطیکہ انشاء طلاق کی نیت نہ ہو۔ اور دوسرے الفاظ کے استعمال کا حکم یہ ہے کہ جب بھی جانور کو مخاطب کر کے یہ الفاظ کہے اور جانور کی خدمت کرنے والی اسکی بیوی ہو تو طلاق ہو جائے گی۔
البحر الرائق،ابن نجیم المصری(م:970ھ)(3/438)رشیدیۃ
وهو الظاهر ومنه يا طالق أو يا مطلقة بالتشديد ولو قال أردت الشتم لا يصدق قضاء ويدين كذا في الخلاصة۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(3/ 251)ایچ۔ایم۔سعید
قال في البحر: ومنه أي من الصريح: يا طالق أو يا مطلقة بالتشديد، ولو قال: أردت الشتم لم يصدق قضاء ودين خلاصة۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(3/255) ایچ۔ایم۔سعید
عن المحیط قال أنت طالق ثم قال یا مطلقۃ لا تقع أخری۔