حضرت جی میں بہت سخت گناہ میں پھنس چکا ہوں، میں نے کسی سے پانچ لاکھ روپے کی رقم 2 ماہ کے لئےلی۔ اس نے وہ رقم اس شرط پر دی کہ میں آپ کو 5 لاکھ کا سونا خرید کر دوں گا وہ آپ فروخت کر کے اپنی رقم پوری کر لینا مگر میں فی تولہ آپ سے 6ہزار روپے ہرماہ کے حساب سے منافع لوں گا میں نے ایک دو مولویوں سے معلومات کی تو اُنہوں نے کہا کہ یہ تو آپ کو رقم نہیں دے رہے وہ تو سونا دے کر آپ سے منافع لے رہا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میں نے یہ کام کر دیا اس کے بعد ایک مفتی صاحب سے معلومات کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو سود ہے پھر مزید مفتی صاحبان سے معلومات کی تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ تو گناہ میں مبتلا ہو چکے ہیں آپ فوراً اللہ سے معانی مانگو ۔ا س کے بعد سے میں سخت پریشان ہوں اور نادم بھی ہوں، کافی رو رو کر اللہ سے معافی مانگی مگر اب کام ہو چکا ہے اور رقم بھی استعمال ہو چکی ہے اور ہر نماز کے بعد اللہ سے معافی مانگ رہا ہوں اور دعاکر رہا ہوں کہ کسی طرح اس لعنت سے نکل جاؤں یہ کام میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا بس ہو گیا ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ معاملہ سودی معاملہ ہے جو کہ نا جائز اور سخت گناہ ہے اور اس صورت میں اصل قرض یعنی آٹھ تولہ سونے سے زائد رقم لینا اور دینا حرام اور گناہ ہے اور آپ پر صرف اصل قرض کی ادائیگی لازم ہے۔ اس لئے آپ اس معاملہ کو فوراً ختم کر دیں اور جو قسط ادا کر چکے ہیں وہ بھی قرض کے حساب میں شامل کرکےبقیہ قرض ادا کریں۔