بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قرض دے کر ہر ماہ نفع وصول کرنا اور مدت گزرنے کے بعد اصل قرض بھی وصول کرنا

سوال

حضرت جی میں بہت سخت گناہ میں پھنس چکا ہوں،  میں نے کسی سے پانچ لاکھ روپے کی رقم  2 ماہ کے لئےلی۔  اس نے وہ رقم اس شرط پر دی کہ میں آپ کو 5 لاکھ کا سونا خرید کر دوں گا وہ آپ فروخت کر کے اپنی رقم پوری کر لینا مگر میں فی تولہ آپ سے 6ہزار روپے ہرماہ کے حساب سے منافع لوں گا میں نے ایک دو مولویوں سے معلومات کی تو اُنہوں نے کہا کہ یہ تو آپ کو  رقم نہیں دے رہے وہ تو سونا دے کر آپ سے منافع لے رہا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میں نے یہ کام کر دیا   اس کے بعد ایک مفتی صاحب سے معلومات کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو سود ہے پھر مزید مفتی صاحبان سے معلومات کی تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ تو گناہ میں مبتلا ہو چکے ہیں آپ فوراً   اللہ سے معانی مانگو ۔ا س کے بعد سے میں سخت پریشان ہوں اور نادم بھی ہوں، کافی رو رو کر اللہ سے معافی مانگی مگر اب کام ہو چکا ہے اور رقم بھی استعمال ہو چکی ہے اور ہر نماز کے بعد اللہ سے معافی مانگ رہا ہوں اور دعاکر رہا ہوں کہ کسی طرح اس لعنت سے نکل جاؤں یہ کام میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا بس ہو گیا ہے ۔
ملحوظہ : – سائل نے فون پر بتایا کہ منافع کی ایک قسط میں نے ادا کر بھی دی ہے۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ معاملہ سودی معاملہ ہے جو کہ نا جائز اور سخت گناہ ہے اور اس صورت میں اصل قرض یعنی آٹھ تولہ سونے سے زائد رقم لینا اور دینا حرام اور گناہ ہے اور آپ پر صرف اصل قرض کی ادائیگی لازم ہے۔ اس لئے آپ اس معاملہ کو فوراً ختم کر دیں اور جو قسط ادا کر چکے ہیں وہ بھی قرض کے حساب میں شامل کرکےبقیہ قرض ادا کریں۔
قال اللہ تعالی
{وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبوٰ} [البقرة: 275]
المرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،علی بن سلطان(م:1014)(6/59)امدادیۃ
عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» ۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م:1088ه)(5/166)ایچ۔ایم۔سعید
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(4/ 320)ایچ۔ایم۔سعید
 فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس