تجارت میں یہ عام بات ہےکہ ادھارمیں لین دین ہوتا ہے۔ ادھار لینے والا ایک دفعہ کل رقم ادا نہیں کرتا بلکہ توڑ توڑ کرکےبلکہ وعدہ سے بعض اوقات مہینہ دو مہینہ اوپر کرکے دیتا ہے شرعا ایسا کرنا کیسا ہے؟ اس سے زیادہ بھیانک رواج یہ ہے کہ ادھار لینے والا یہ کہہ کر لیتا ہے کہ میں فلاں کا کام کر رہا ہوں اس سے وصولی ہوگی تو دے دوں گا اور اس کام میں اتنے دن لگیں گے مثلاً 28 سے 35 دن یا 35 سے 45 دن وغیرہ۔ مگر تین تین ماہ ادائیگی میں لگا دیتے ہیں۔ ان کے اپنے بھی عملے سے یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ ہم سے لیا ہوا مال جہاں سپلائی کیا تھا ان سے رقم وصول ہو چکی ہے ۔ مگر وہ ہماری رقم استعمال کرتے رہتے ہیں کیا ایسا کرنا شرعا درست ہے ایسے تاجر بھی ہیں الحمدللہ انکے کاروبار میں وسعت ہے لیکن رواج کی وجہ سے رقم توڑ توڑ کر دیتے ہے کیا ایسا کرنا شرعا درست ہے؟
قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر وعدہ پورا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور وعدہ کی خلاف ورزی کرنے کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں یہاں تک کہ احادیث مبارکہ میں اسے منافقت کی علامات میں شمار کیا گیا ہے اسی طرح شریعتِ مطہرہ میں قرض کی ادائیگی میں جلدی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور وسعت مالی اور قرض کی ادائیگی پر قدرت کے باوجود ٹال مٹول کرنے کو حدیث شریف میں ظلم کہا گیا ہے لہذا وسعت مالی کے باوجود مقروض کا قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا، نیز سوال میں ذکر کردہ صورت حال میں یکمشت ادائیگی پر قدرت ہوتے ہوئے رقم ( توڑ توڑ کر) قسطوں میں ادا کرنا ناجائز اور گناہ ہے اور وعدہ کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے گناہ مزید سنگین ہو جاتا ہے اس لئے ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وعدہ خلافی سے بچنے کی پوری کوشش کرے اور ہمیشہ وعدہ پورا کرنے کا اہتمام کرے نیز قرض کی ادائیگی پر قدرت حاصل ہوتے ہی فور اقرض ادا کرے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی استطاعت وقدرت کے مطابق ادائیگی کے شیڈول کے ساتھ وعدہ کیا جائے اور اس کو پورا بھی کرنے کی نیت ہو۔
قال اللہ تعالی
{وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولا} [الإسراء: 34]
تفسير ابن كثير،اسماعیل بن عمر(م:774ھ)(5/ 74)
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] : {وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ} أَيِ الَّذِي تُعَاهِدُونَ عَلَيْهِ النَّاسَ وَالْعُقُودَ الَّتِي تُعَامِلُونَهُمْ بِهَا، فَإِنَّ الْعَهْدَ وَالْعَقْدَ كُلٌّ مِنْهُمَا يُسْأَلُ صَاحِبُهُ عَنْهُ {إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولا} أَيْ: عَنْهُ
أحكام القرآن للجصاص ،احمد بن علی الحنفی(م:370ھ) (1/239)قدیمی کتب خانہ
امتناعه من قضاء الدين قد تضمن شيئين. أحدهما: حق الله تعالى، والآخر: حق الآدمي، فإذا استوفى الآدمي حقه فقد برئ من تبعته وبقي من حق الآدمي ما أدخل عليه من الظلم والضرر بتأخيره، فإذا لم يتب منه كان مؤاخذا به في الآخرة۔
شرح النووي على مسلم ،يحيى بن شرف النووي (م: 676ه) (5/87)البشری
قوله صلى الله عليه وسلم (مطل الغني ظلم) قال القاضي وغيره المطل منع قضاء ما استحق أداؤه فمطل الغني ظلم وحرام۔
بدائع الصنائع،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ) (10/96،97)دارالکتب العلمی
ومنها المطل وهو تأخير قضاء الدين لقوله – عليه الصلاة والسلام – مطل الغني ظلم فيحبس دفعا للظلم لقضاء الدين بواسطة الحبس . . . .لأنه إذا كان الظلم بسبيل من قضاء دينه صار بالتأخير ظالما فيحبس ليقضي الدين فيندفع الظلم۔