بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بالغہ لڑکی کی رضا مندی کے بغیراس کا نکاح کرنے کا حکم

سوال

ایک لڑکی کا نکاح   اس کے والدین نے لڑکی کی رضامندی کے بغیر زبردستی کردیا ۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ میں نے نکاح کے کلمات نہیں پڑھے دستخط بھی کسی نے ہاتھ پکڑ کر غلط نام پر کروائے یعنی نام بھی غلط لکھا گیاپھر مٹا کر کسی  نے صحیح لکھا اور نکاح نامہ تیار کیا ، رخصتی نہیں ہوئی۔ دو سال بعد خاوند نے کہا  کہ میں نے طلاق نامہ ڈاک میں بھیج دیا ہے لیکن لڑکی کو موصول نہیں ہوا ۔کیا اس آدمی سے دوبارہ اس لڑکی کا نکاح ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ لڑکی اب رضامندہے ۔
خلاصہ: نمبر ۱۔ نکاح کے وقت لڑکی بالغہ تھی۔نمبر ۲۔تین طلاقیں دی ہیں۔نمبر ۳۔نکاح کے بعد عورت کی رضامندی نہیں تھی۔

جواب

بشرطِ صحتِ بیان صورت مسئلہ میں اگر لڑکی کا نکاح اس کے والدین نے اس کی اجازت کے بغیر کر دیا تھا  اور عورت نے نکاح کی خبر سن كر اسی مجلس میں فوراً  انکار کیا تو یہ نکاح نہیں ہوا۔نیز نکاح فارم پر دستخط کرتے وقت  اگر عورت  دستخط کرنے سے قطعی طور پر منکر تھی اور ہاتھ زبردستی پکڑ کر اس کے دستخط کروائے گئے تو اس دستخط کی وجہ سے بھی نکاح نہیں ہوا۔
:الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(3/ 58)ایچ۔ایم۔سعید
(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ۔
:البحر الرائق،ابن نجیم المصری(م:970ھ)(3/194)رشیدیۃ
(قوله ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) أي لا ينفذ عقد الولي عليها بغير رضاه عندنا۔
:الدر المختار،،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (3/ 12) ایچ۔ایم۔سعید
(فلا ينعقد) بقبول بالفعل كقبض مهر ولا بتعاط ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرط إعلام الشهود بما في الكتاب ما لم يكن بلفظ الأمر فيتولى الطرفين فتح۔
:رد المحتار،ابن عابدين الشامی(م:1252ھ) (3/ 12) ایچ۔ایم۔سعید
(قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي ولو في الغيبة۔

  البتہ  اب اگر وہ رضامند ہو تو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنا درست ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس