بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندہ جانور کو تول کر خریدنا

سوال

عید الاضحٰی کے موقع پر زندہ بکرے کو تول کر خریدنا کیسا ہے ؟اسی طرح  زندہ مرغیوں کا خریدنا کیسا ہے؟ہدایہ میں مسئلہ لکھا ہے ” لأن الحيوان لا يوزن عادة ولا يمكن معرفة ثقله بالوزن لأنه يخفف نفسه مرة بصلابته ويثقل أخرى”(باب الربوا) جبکہ دوسری طرف دیکھیں تو دیسی مرغیوں کو زندہ تول کر بیچا جاتا ہے اورعید الاضحٰی کے موقع پر بعض جگہ بھیڑ ،بکریوں کو بھی تولا جاتا ہے۔

جواب

جانور کا اپنے آپ کو ہلکا یا بوجھل کرنا یہ یقینی نہیں بلکہ ایک احتمال ہے، اور اگر کسی جگہ یہ احتمال ثابت بھی ہو جائے تو عام طور پر جانور کے اپنے کو ہلکا یا بو جھل کرنے سے اس کے وزن میں زیادہ فرق نہیں آتا، لہذا  یہ جہالت یسیرہ ہے اورعام خرید و فروخت کے معاملات میں معمولی سی جہالت کی وجہ سے کسی نے عدمِ جواز کا قول اختیار نہیں کیا، نیز زندہ جانور کو تول کر فروخت کرنے کا عرف عام ہونے کی وجہ سے اس میں نزاع کا بھی احتمال نہیں، اس لیے یہ بیع جائز ہے۔ بشرطیکہ متعین جانور کا فی کلو کے حساب سے نرخ طے کر لیا گیا ہو نیز جانور کا وزن کرنے کے بعد اس کی قیمت بھی متعین کرلی گئی ہو۔
:رد المحتار،ابن عابدين الشامی(م:1252ھ)(4/ 529)ایچ۔ایم۔سعید
وقيدنا بالفاحشة لما قالوه لو باعه جميع ما في هذه القرية أو هذه الدار والمشتري لا يعلم ما فيها لا يصح لفحش الجهالة أما لو باعه جميع ما في هذا البيت، أو الصندوق، أو الجوالق، فإنه يصح؛ لأن الجهالة يسيرة ہدایہ میں مذکورہ عبارت کو کتب فقہ کے باب ربا میں ذکر کیا گیا ہے جس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ حکم اموال ربویہ کے آپس میں تبادلہ کی صورت میں ہے کیونکہ باب ربا میں تفاضل کا احتمال بھی ممنوع ہے۔
:رد المحتار،ابن عابدين الشامی(م:1252ھ) (4/ 531)ایچ۔ایم۔سعید
فإنه لا يصح لاحتمال الربا واحتماله مانع كحقيقته لہٰذا  اگر جانور کو گوشت ہی کے بدلے میں فروخت کیا جائے تو اس وقت تو بعض صورتوں میں منع کیا جائے گا  کہ اس میں احتمال ربا ہے،لیکن جب روپے کے بدلے میں خریدا جائے  تو صرف اس احتمال کی بناء پر ممنوع نہ ہوگا۔
:البحر الرائق،ابن نجیم المصری(م:970)(5/ 436)رشیدیۃ
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فالمجهول جهالة مفضية إليها غير صحيح كشاة من هذا۔
:اوجز المسالک،محمد زکریا الکاندھلوی(م:1402ھ)الاماراتالعربیۃالمتحدۃ
کما لو باعہ باالأثمان،وإن باعہ بحیوان بغیر مأکول اللحم جاز فی ظاھر قول أصحابنا ،وفی المحلی:قال أبو حنیفۃ و أبو یوسف : یجوز بیع اللحم  بالحیوان ؛ لأن الحیوان لیس مال الربا،وھو بیع موزون بغیر موزون۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس