بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

موبائل کارڈ لینے کی صورت میں رقم کٹوتی کا حکم

سوال

زید ایک موبائل کمپنی کا صارف ہے اس کمپنی کی سم کے استعمال کے لئے رقم کارڈ ڈلوانے کی ضرورت پیش آتی ہے جس پر وہ کمپنی والے 10 فیصد کٹوتی کرتے ہیں جو کہ صارف پر ایک زائد بوجھ ہے اور بامر مجبوری و ضرورت یہ بوجھ بر داشت کرتا ہے۔ ابتداء معاہدہ کے وقت اس کٹوتی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، صارف اس کٹوتی کے بارے میں شرعی نقطہ نظر معلوم کرنا چاہتا ہے ۔

جواب

  کارڈ ڈلوانے کے بعد جو کٹوتی ہوتی ہے وہ معروف ہونے کی وجہ سے مشروط کے حکم  میں ہے ، لہذا کارڈ خریدتے ہوئے عقد میں اس کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ جو کٹوتی ہوتی ہے اس کے بارے میں تحقیق  کرنے سے یہ معلومات  ہوئی ہےکہ یہ ساری کٹوتی کمپنی کی نہیں ہوتی بلکہ کچھ حکومتی ٹیکس ہوتا ہے اور کچھ کمپنی کاٹتی ہے جس کے بارے میں کمپنی کا موقف یہ ہے کہ  حکومتی ٹیکس سے بچنے کے لیے یہ رقم کال کی قیمت میں شامل نہیں کی جاتی۔چنانچہ شرعاً اس کٹوتی کی وجہ سے عقد اجاره فاسد نہ ہو گا اس لیے کہ کمپنی کی یہ کٹوتی بھی اجرت کا حصہ بن جائے گی۔
:الفتاوی التاتارخانیۃ، عالم بن علاء الدہلوی (م: 786ھ)(4/346)فاروقیۃ
لأن المعروف کالمشروط۔
:شرح المجلۃ،محمد خالد الاتاسی(1/100)رشیدیۃ
أی المعروف المعتاد بین الناس وإن لم یذکر صریحا فھو بمنزلۃ الصریح لدلالۃ العرف علیہ،فقد ذکر فی البدائع من کتاب الإجارۃ : أن توابع العقود التی لا ذکر لھا  فی العقود تحمل علی عادۃ کل بلد۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(6/ 21)ایچ۔ایم۔سعید
 ( الزيادة في الأجرة من المستأجر تصح في المدةوبعدھا) أي إن كانت من خلاف جنس ما استأجره فلو من جنسه فلا بخلاف الزيادة من جانب المؤجر فتجوز مطلقا  عن الهندية ملخصا. (قوله وبعدها) صوابه لا بعدها كما هو في الأشباه والمنح؛ لأن محل العقد قد فات والمراد بعد مضي كلها۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس