بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وراثت تقسیم ہو جانے کے بعد اگر میراث کے کسی حصہ مثلا دکان وغیرہ کی قیمت بڑھ جائے

سوال

مفتی صاحب میرے شوہر کو    فوت ہوئے تقریبا 12یا 13 سال    کا عرصہ  ہوگیا  ہے۔ ميرے     چار بیٹیاں  اور دو بیٹےہیں چھوٹا بیٹا میرے ساتھ ہے،بڑا علیحدہ رہتا ہے۔ شوہر کی جائیداد میں اعظم کلاتھ مارکیٹ کی دو دکانیں 1عدد مکان اور کپڑے کی مل میں بھائیوں کے ساتھ شیئر تھا۔ مل سے پیسہ ان کی وفات کے بعد مل گیا،یہ ان کی کل جائیداد تھی۔ شوہر کے مرنے کے بعد وراثت کی تقسیم اس طرح ہوئی کہ ایک دکان بڑے بیٹے کے،دوسری دکان چھوٹے بیٹے کے، مکان میرے نام ہو گیا، لڑکیوں کے حصہ میں فی لڑکی 23 لاکھ 40 ہزار کی رقم آئی اور جو پیسہ  مل سے ملا تھا اس میں سے فی لڑکی کو  15 – 15 لاکھ دے دیے  جس کے  انہوں نے مکان خرید لئے ۔ ان کی بقایا رقم یعنی 8 لاکھ پچاس ہزار رہتے تھے ۔ وہ چھوٹے بیٹے نے دیے تھے لیکن اس کے پاس دینے کے لئے نقد رقم نہیں تھی دکان بیچ کر بہنوں کی بقایا رقم ادا کرسکتا تھا  ۔ اگر دکان اسی وقت فروخت کر دیتا تو ہمارے گھر کا خرچہ کس طرح چلتا کیونکہ ہم نے دکان کرائے پر دے دی تھی اس کرائے سے گھر کا خرچ چل رہا ہے جو کرایہ دکان سے آتار ہا اس میں سے لڑکیوں کو کچھ نہیں دیا گیا اب دکان سیل کرنے کا پروگرام ہے ۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ کے مطابق لڑکیوں کو وہی رقم دی جائیگی یا رقم بڑھا کر دی جائے گی۔ اگر رقم بڑھا کر دی تو اس کی تقسیم کس طرح ہوگی بیٹے کے پاس یہ ایک دکان ہی ہے۔

جواب

بشرطِ صحتِ بیان اگر پہلے مذکورہ تقسیم آپس کی رضا مندی سے ہوئی تھی تو اب چھوٹے بیٹے کے ذمہ سابقہ تقسیم کے مطابق ہی بہنوں کی ادائیگی کرنا ہے، دوکان کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے رقم بڑھا کر ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔
:الفتاوى الهندية ،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(5/ 226)رشیدیۃ
ادعى أحد  المتقاسمين الغلط في القسمة من حيث القيمة بأن ادعى غبنا في القسمة فإن كان يسيرا بحيث يدخل تحت تقويم المقومين لا تسمع دعواه ولا تقبل بينته وإن كان فاحشا بحيث لا يدخل تحت تقويم المقومين فإن كانت القسمة بالقضاء لا بالتراضي تسمع بينته بالاتفاق وإن كانت بتراضي الخصمين لا بقضاء القاضي لم يذكر في الكتاب وحكي عن الفقيه أبي جعفر أنه كان يقول: إن قيل: تسمع فله وجه وإن قيل: لا تسمع فله وجه كذا في الفتاوى الصغرى وهو الصحيح وعليه الفتوى كذا في الغياثية، وحكي عن الفضلي أنه تسمع كما إذا كانت بقضاء القاضي وهو الصحيح كذا في شرحه للمختصر، وذكر الإسبيجابي في شرحه: هذا كله إذا لم يقر الخصم بالاستيفاء أما إذا أقر بالاستيفاء فإنه لا تصح دعواه الغلط والغبن إلا إذا ادعى الغصب فحينئذ تسمع دعواه كذا في الفتاوى الصغرى۔
:المحيط البرهاني،برھان الدین(م:616)(11/188)داراحیاء ترات العربی
والذي يصح أن يدعي أحد المتقاسمين الغلط في التقويم بغبن فاحش، بأن كان ما يدعى من مقدار الغلط لا يدخل تحت تقويم المقومين، وإنه صحيح إن حصلت القسمة بقضاء القاضي؛ لأنا لو سمعنا هذه الدعوى ونقصنا هذه القسمة لا يؤدي إلى ما لا يتناهى؛ لأنه لا يقع مثل هذا الغبن في القسمة الثانية؛ لأنه يتصور التقويم في المرة الثانية على وجه لا يتحقق فيها الغبن الفاحش، وإن حصلت القسمة بالتراضي لم يذكر محمد رحمه الله هذا الفصل في «الكتاب». ( كذا في البناية،  محمود بن أحمد العينى (م: 855ه) (10/542)رشیدیۃ)۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس