مفتی صاحب میرے شوہر کو فوت ہوئے تقریبا 12یا 13 سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔ ميرے چار بیٹیاں اور دو بیٹےہیں چھوٹا بیٹا میرے ساتھ ہے،بڑا علیحدہ رہتا ہے۔ شوہر کی جائیداد میں اعظم کلاتھ مارکیٹ کی دو دکانیں 1عدد مکان اور کپڑے کی مل میں بھائیوں کے ساتھ شیئر تھا۔ مل سے پیسہ ان کی وفات کے بعد مل گیا،یہ ان کی کل جائیداد تھی۔ شوہر کے مرنے کے بعد وراثت کی تقسیم اس طرح ہوئی کہ ایک دکان بڑے بیٹے کے،دوسری دکان چھوٹے بیٹے کے، مکان میرے نام ہو گیا، لڑکیوں کے حصہ میں فی لڑکی 23 لاکھ 40 ہزار کی رقم آئی اور جو پیسہ مل سے ملا تھا اس میں سے فی لڑکی کو 15 – 15 لاکھ دے دیے جس کے انہوں نے مکان خرید لئے ۔ ان کی بقایا رقم یعنی 8 لاکھ پچاس ہزار رہتے تھے ۔ وہ چھوٹے بیٹے نے دیے تھے لیکن اس کے پاس دینے کے لئے نقد رقم نہیں تھی دکان بیچ کر بہنوں کی بقایا رقم ادا کرسکتا تھا ۔ اگر دکان اسی وقت فروخت کر دیتا تو ہمارے گھر کا خرچہ کس طرح چلتا کیونکہ ہم نے دکان کرائے پر دے دی تھی اس کرائے سے گھر کا خرچ چل رہا ہے جو کرایہ دکان سے آتار ہا اس میں سے لڑکیوں کو کچھ نہیں دیا گیا اب دکان سیل کرنے کا پروگرام ہے ۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ کے مطابق لڑکیوں کو وہی رقم دی جائیگی یا رقم بڑھا کر دی جائے گی۔ اگر رقم بڑھا کر دی تو اس کی تقسیم کس طرح ہوگی بیٹے کے پاس یہ ایک دکان ہی ہے۔