بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گانے کے انداز میں نعت پڑھنا اور اس کے ساتھ دف یا ساز بجانا

سوال

 نعتِ  رسول ﷺ گانے کے انداز میں پڑھنا یا اس کے ساتھ دف بجانا  یا بعض ایسے انداز سے ذکر کرتے  مثلاً  اللہ، اللہ جو ایک ساز مشابہ ہے ،یہ کیسا ہے؟

جواب

درج ذیل عبارات سے معلوم ہوا کہ (غناء)گانے کا اپنا ایک انداز ،لہجہ اور طرز ہے ۔وہ طرز اور انداز اور لہجہ اگر قرآن و اذان کے اندر بھی پیدا ہو جائے تو صحیح نہیں ہے  اسی طرح حمد و نعت میں بھی گانے کا مروجہ انداز درست نہ ہوگا اور وہ طرز یہ ہے کہ ۔
نمبر۱۔آواز کو حلق میں حد درجے گھمانا۔
نمبر۲۔ اتنا لحن(کھینچنا،غنہ)کرنا کہ حروف اپنی اصل ہیئت سے بگڑ جائیں۔
نمبر۳۔  گانے کے ساتھ تالی،موسیقی،آلات لہو و لعب بجانا۔
نمبر۴۔ آواز کو ضرورت سے حد درجہ بلند کرنا اور گلہ پھاڑ پھاڑ کرآواز نکالنا ۔
نمبر۵۔ جھوم جھوم کے پڑھنا۔
قہستانی کے حوالہ سے غناء کی ذکر کردہ تعریف کے بارے میں اگر چہ”الدر المنتقی” میں یہ کہا گیا ہے کہ اس تعریف کا ذکر ہماری کتب میں نہیں ہے لیکن یہ ایسی تعریف ہے جو غناء کے اپنے ذکر کردہ معنی کے قریب  ترہے۔ نیز  مفتی شفیع  صاحب فرماتے ہیں (غناء)(بالمد والکسر)لغت میں اس آواز کو کہتے ہے جس سے کیف ومستی پیدا کرنا مقصود ہو (قاموس)۔
اس کی دو صورتیں : ایک یہ ہے کہ موسیقی کے  فنی قواعد کا لحاظ رکھے بغیر محض خوش آوازی  اور ترنم کے ساتھ سادگی سے کوئی شعر  وغیرہ پڑھا جائے  جیسا کہ اہل عرب کی عادت تھی اور یہی ان کی سادہ فطرت  کا تقاضہ تھا۔
دوسرے یہ کہ  موسیقی فنی قواعد کا لحاظ کرتے ہوئے آواز کو مصنوعی طور پر اس طرح نکالا  یا بنایاجائے جیسے آج کل عام طور پر مغنی ، گلوکار  کیا کرتے ہیں ۔
عرف عام اور شریعت میں لفظ غناء کا اطلاق بلا شبہ دونوں ہی معنی میں ہوتا ہے ،دوسرے معنی پر اطلاق تو عام طور پر معروف ہے ، البتہ پہلا معنی پر اس کا اطلاق اتنا معروف نہیں۔(اسلام اور موسیقی،ص:241) غناء کو دو الگ الگ معنی پر محمول کرنے  کی تائید علامہ ابن ہمام کی عبارت سے ہوتی ہے ۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (6/ 349)ایچ۔ایم۔سعید
عرف القهستاني الغناء بأنه ترديد الصوت بالألحان في الشعر مع انضمام التصفيق المناسب لها قال فإن فقد قيد من هذه الثلاثة لم يتحقق الغناء اهـ قال في الدر المنتقى وقد تعقب بأن تعريفه هكذا لم يعرف في كتبنا فتدبر اهـ. أقول: وفي شهادات فتح القدير بعد كلام عرفنا من هذا أن التغني المحرم ما كان في اللفظ ما لا يحل كصفة الذكور والمرأة المعينة الحية ووصف الخمر المهيج إليها والحانات۔۔۔۔ وفي الملتقى وعن النبي – صلى الله تعالى عليه وسلم – أنه كره رفع الصوت عند قراءة القرآن والجنازة والزحف والتذكير، فما ظنك به عند الغناء الذي يسمونه وجدا۔ ومحبة فإنه مكروه لا أصل له في الدين
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (6/ 421) ایچ۔ایم۔سعید
وفي الذخيرة: وإن كانت الألحان لا تغير الكلمة عن وضعها، ولا تؤدي إلى تطويل الحروف التي حصل التغني بها، حتى يصير الحرف حرفين، بل لتحسين الصوت، وتزين القراءة لا يوجب فساد الصلاة، وذلك مستحب عندنا في الصلاة وخارجها، وإن كان يغير الكلمة من موضعها يفسد الصلاة لأنه منهي۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(1/ 630) ایچ۔ایم۔سعید
(قوله بالألحان) أي بالنغمات، وحاصلها كما في الفتح إشباع الحركات لمراعاة النغم۔
:لسان العرب جمال الدين الأنصاري (م: 711ه)(15/ 136)بیروت
وقال أبو العباس: الذي حصلناه من حفاظ اللغة في قوله، صلى الله عليه وسلم: كأذنه لنبي يتغنى بالقرآن، أنه على معنيين: على الاستغناء، وعلى التطريب؛ قال الأزهري: فمن ذهب به إلى الاستغناء فهو من الغنى، مقصور، ومن ذهب به إلى التطريب فهو من الغناء الصوت، ممدود. الأصمعي في المقصور والممدود: الغنى من المال مقصور، ومن السماع ممدود، وكل من رفع صوته ووالاه فصوته عند العرب غناء۔
:تاج العروس، محمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسين(م:1205)(39/ 193)دارالهداية
(والغناء، ككساء؛ من الصوت: ما طرب به)الغناء، بالكسر، من السماع.وفي النهاية: هو رفع الصوت وموالاته ،وفي المصباح: وقياسه الضم لأنه صوت۔
:فتح القدير،ابن الهمام الحنفی(م: 861ه) (7/ 382)رشیدیۃ
فإن لفظ الغناء كما يطلق على المعروف يطلق على غيره۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (1/ 46)ايچ۔ايم۔سعيد
(قوله: وعلم الموسيقي) بكسر القاف: وهو علم رياضي يعرف منه أحوال النغم والإيقاعات، وكيفية تأليف اللحون، وإيجاد الآلات. وموضوعه الصوت من جهة تأثيره في النفوس باعتبار نظامه في طبقته وزمانه. وثمرته بسط الأرواح وتعديلها وتفويتها وقبضها أيضا۔

خلاصہ یہ ہے کہ حمد و نعت یا کسی بھی قسم کا کلام گانے کی طرز پر اس طرح پڑھنا جس میں لفظی یا معنوی تحریف ہو یا اس میں آلات لہو و لعب کا بجانا یا ناچنا(رقص) ہو صحیح نہیں ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس