بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ

سوال

میری پہلی بیوی انتقال کر چکی ہے ان سے میری ایک بچی ہے جو الحمد للہ شادی شدہ ہے اور دوسری بیوی سے ایک بیٹا ہے۔  معلوم یہ کرنا ہے کہ میرے ورثاء (پہلی بیوی اور ان سے ایک بیٹی اور دوسربیوی اور ان سے ایک بیٹا ہے )کا میری وراثت میں کتنا حق بنتا ہے ؟

جواب

اگر آپ اپنی زندگی میں مال تقسیم نہیں کرتے تو آپ کی وفات کے بعد آپ کے ترکہ سے تجہیز وتکفین ،ادائیگی قرض اور ثلث مال میں سے وصیت پوری کرنے کے بعد کل مال کے 24 حصے کر کے ،3حصے زندہ بیوی کو ،14حصے بیٹے کو ،7حصے بیٹی کو دیے جائیں گے  بشرطیکہ بوقت وفات  یہ ورثاء زندہ رہے ۔جو بیوی آپ کی زندگی میں فوت ہو چکی ہے وہ آپ کی وراثت کی حقدار نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ  اگر آپ اپنی زندگی میں مال تقسیم کرنا چاہیں تو  بیوی کو اس کا حصہ دینے کے بعد بیٹے اور بیٹی کو برابر دے کر ان کا قبضہ بھی کروالیں  کیونکہ ہبہ میں قبضہ ضروری ہے۔
:الفقه الإسلامي وأدلته ، وَهْبَة بن مصطفى الزُّحَيْلِيّ (م:1436ھ) (5/ 4012)رشیدیۃ
لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم، واختلفوا في بيان المراد من التسوية المستحبة.فقال أبو يوسف من الحنفية، والمالكية والشافعية وهو رأي الجمهور:يستحب للأب أن يسوي بين الأولاد ـ الذكور والإناث ـفي العطية۔
:فی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ،محمد بن محمد البزازی(م:827)(6/237)ایچ۔ایم۔سعید
الأفضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس