نمبر۱۔عرض ہے کہ میں ایک جیولر ہوں ہم لوگ خالص سونے والے ہیں ،ایک پیس (10تولہ) ادھار خرید لیتے ہیں اس طرح کہ آج بھاؤ 5000 روپے فی تولہ ہم نے خریدلیا تو 10 تولے( 50،000 )پچاس ہزار روپے کا بنا ۔ہم نے طے کر لیا کہ ہم 10 تولے سونا (51،000)اکیاون ہزار روپے کا خرید لیں گے مگر پیسے تھوڑے تھوڑے کر کے دیں گے وقت کوئی بھی طے نہیں ہے مگر ایک ماہ میں دوچار دن کم یا زیادہ ہم حساب صاف کرکے دوبارہ سونا خرید لیتے ہیں کیا اس طرح سونا خریدا جا سکتا ہے۔
نمبر۲۔اگر سونا آج کے بھاؤ سے 50،000 بنتا ہے مگر ہم اس طرح 51،000 کا خرید لیتے ہیں اور ایک ماہ بعد پیسے دیں گے جو رقم بن گئی ہے رقم وہی رہے گی چاہے بھاؤ کم ہوجائے یا زیادہ کیا اس طرح مناسب ہے؟
سوال میں ذکر کردہ سونے کی بیع ادھار رقم کے بدلے درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
نمبر۱۔ بیع کے وقت خریدے جانے والے سونے کی قیمت طے ہو جائے اس میں ابہام نہ ہو
نمبر۲۔ادائیگی کی مدت طے کر لی جائے کہ کتنے عرصے میں وہ رقم ادا کرے گا۔
نمبر۳۔مدت ادائیگی سے تاخیر یا جلد ادائیگی پر قیمت میں کمی یا زیادتی مشروط یا معروف نہ ہو۔ اگر مذکورہ شرائط نہ پائی جائے تو بیع جائز نہ ہوگی۔