ہمارے والد صاحب نے بیس سال قبل ایک پلاٹ خریدا،ا س کی خریداری میں تعاون کے طور پر بیٹوں نے بھی رقم دی جس میں بڑے بیٹے کی رقم سب سے زیادہ تھی۔ پلاٹ والد صاحب نے بیٹوں کی رہائش تعمیر کرنے کےلئے خریدا تھا، والد صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پلاٹ کے چار حصہ کر کے چار بیٹوں کیلئے رہائش تعمیر کی جائے، چنانچہ پہلے انہوں نے سب سے بڑے بیٹے کےلئے گھر تعمیر کیا، تعمیر کے وقت یہ بات طے تھی کہ گھر بڑے بیٹے کےلئے بنایا جا رہا ہے تعمیر مکمل ہو گئی لیکن رہائش سے پہلے بڑے بیٹے کا انتقال ہو گیا ان کی وفات کے بعد ان کے بیوی بچے اس مکان میں ایسے رہائش پذیر رہے جیسے اپنے مکان میں رہائش پذیر ہوں ۔
دوسرے نمبر پر دوسرے بیٹے کی نیت سے گھر تعمیر کیا گیا۔ تعمیر کرتے وقت طے تھا کہ یہ دوسرے بیٹے کے لئے بنایا جا رہا ہے تعمیر کے بعد سےآج تک اس مکان میں دوسرا بیٹا ،والدین اور بہنیں رہائش پذیرہیں۔
تیسرے نمبر پر چھوٹے بیٹے کےلئے مکان تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر کے وقت بھی یہ طے تھا کہ یہ گھراس چھوٹے بیٹےکےلئے بنایا جا رہا ہے۔ اس تعمیر کی چھوتی منزل پر مکان تعمیر نہیں ہوا بلکہ وہ چوتھے مکان کی تعمیر کےلئے رکھا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ والد صاحب نے پلاٹ کی خریداری سے لیکر آج تک زبان سے یہ بات نہیں کہیں کہ یہ مکان فلاں بیٹے کو میں نے دیدیا اور نہ ہی کسی بیٹے کو یہ کہا کہ یہ مکان تمہارا ہے اس پر قبضہ کر لو اگر چہ تعمیر کے وقت یہ بات ذہن میں بھی تھی اور لوگوں کو بھی پتہ تھا کہ یہ مکان فلاں بیٹے کےلئے بنایا جارہا ہے خصو صا جب مرحوم بیٹے کی بیوی بچوں کو رہائش دے رہے تھے تویہ نیت تھی کہ یہ ان کی ملکیت ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہےکہ :نمبر۱۔ مذکورہ تین مکانات اور ایک پلاٹ اِس وقت والد صاحب کی ملک شمار ہوگا یا جن کے نام یہ متعین کر کے بنائے گئے ہیں ان کی ملکیت تصور ہوگی ؟
نمبر۲۔ اگر والد صاحب کی ملکیت ہو تو کیا وہ پہلا مکان مرحوم بیٹے کی بیوہ اور بچوں کو جبکہ دوسرے دو مکان اور پلاٹ بیٹوں کو ہبہ کر سکتے ہیں ؟ تمام صورتوں میں گناہ گار تو نہیں ہوں گے یہ بات یقینی ہے کہ ہبہ کی وجہ سے بقیہ ورثاء یعنی دو بہنیں ضرور متاثر ہوں گی۔
نمبر ۳۔ والد کے انتقال کے بعد مرحوم بیٹےکی بیٹیوں اور بیوہ کو والد کی وراثت میں حصہ ملے گا یا نہیں؟
(4) عام طور پر مستورات سے جائیداد میں سےحصہ وراثت کو معاف کروانے کےلئے ان سے بیان دلوایا ہوتا ہے بعض مستورات شرم کی وجہ ی سےیا کسی اور مجبوری سے دے دیتی ہیں توکیا اس طرح بیان سے ان کا حق ختم ہو جاتا ہے اور نیزا س وجہ سےبھی کہ بیٹیاں اب دوسرے گھر چلی گئی ہیں ان کو حصہ نہیں دیا جاتا تو کیا یہ درست ہے؟
صورت مسئولہ میں تین مکانات اور ایک پلاٹ میں سے پہلے مکان میں ہبہ سمجھا جائے گا، اس لیے کہ متعین حصہ موہوب لہم ( مرحوم کی اولاد، بیوی) کے قبضہ میں تملیکا دے دیاگیا ہے، اگر چہ ہبہ کی کوئی صراحت نہیں، لیکن ظاہر حال و قرینہ ہبہ پر دلالت کر رہا ہے۔اور ہبہ میں قرینہ بھی کافی ہوتا ہے۔
اور باقی حصوں پر چونکہ ان کو قبضہ نہیں دیا گیا جن کی نیت سے بنایا تھا، اس لیے ان میں ہبہ مکمل نہیں ہوا وہ والد صاحب کا ہی ہے، اس میں میراث جاری ہوگی۔
نمبر۲۔ جو حصہ والد صاحب کا ہی ہے اگر وہ اپنی زندگی میں اسے تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں اولاد کو برابر کا حصہ دیں، بغیر کسی وجہ کے کسی ایک کو زیادہ نہ دیں،البتہ دین داری ،فقر وغیرہ کی وجہ سے زیادہ دے سکتے ہیں۔
نمبر ۳۔ والد کے انتقال کے وقت اگر بیٹے موجود ہوں تو پوتوں کو دادا کی میراث سے کچھ نہیں ملتا لہذا مذکورہ صورت میں والد کے انتقال کے وقت اگر بیٹے موجود ہوں تو والد کے مرحوم بیٹے کی بیوی و اولاد کو دادا کی میراث سے کچھ نہ ملے گا۔
نمبر ۴۔ اگر میراث میں نقد مال اور جائیداد یعنی زمین ،مکان و اشیاء مکان وغیرہ سب طرح کا سامان ہو تو اس صورت میں وارث کے معاف کرنے سے، یا کسی اور کے معاف کرانے سےدیون میں تو معافی معتبر ہو کر حق ختم ہو جائے گا، لیکن اعیان (جائیداد وغیرہ) میں مذکورہ الفاظ سے حق وراثت ختم نہ ہوگا، بلکہ بعد میں بھی مطالبہ کا حق ہوگا، لہذا مذکورہ طریقہ سے اجتناب کرتے ہوئے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دینا چاہیے، خواہ بیٹیاں دوسرے گھر چلی گئی ہوں اور بیان دلوا کرمعاف کرانا بر ا اور نا مناسب طریقہ ہےاور ہمارے زمانے میں چونکہ یہ بہت عام ہوگیا ہے اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔