بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معتوہ اور مجنون شخص کی طلاق معتبر نہیں ہے

سوال

میں نے اپنی بیوی کو درج ذیل وجوہات کی بناء پر انتہائی ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہو کے نہ چاہتے ہوئے تحریری طور پر تین طلاقیں لکھ دیں، اور میری حالت  بری تھی کیونکہ میرے کچھ عزیزوں نے مجھ پر اتنا دباؤ ڈالا اور اتنا ڈرایا کہ میرا دماغ اس دباؤ اور خوف سے صحیح کام نہیں کر رہا تھا اور میری عقل صحیح سوچ سے خالی ہو گئی تھی اور اس رنج اور خوف کے عالم میں میں نے ان کے کہنے کے مطابق تین بار تحریری طلاق لکھ ڈالی اور مجھے ان باتوں سے ڈرایا اور خوف میں مبتلا کیا گیااور میرے دماغ اور میری سوچ کو بالکل مفلوج کیا گیا کہ اگر تم نے طلاق لکھ کر نہ دی تو اپنے خاندان کے ساتھ تعلق ختم ہو جائے گا۔تمہارا کاروبار ختم ہو جائے گا اور تمہیں بہت مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تمہاری بیوی کے خاندان کی طرف سے تمہاری جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ تمہارے پاس کوئی اور راستہ نہیں اس لیے تمہیں  اپنی بیوی کو چھوڑنا ہی پڑے گا ۔ان مذکورہ باتوں کا مجھ سے بار بار ذکر كرکے مجھے بار بار اس قدر ڈرایا اور خوف زدہ کیا اور طلاق کہنے پر مجبور کیا گیا کہ میرے دماغ نے صحیح کام کرنا چھوڑ دیا ۔ عقلی قوت جواب دے گئی کیونکہ میں اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی وہ مجھے چھوڑنا چاہتی تھی، اب بھی وہ مجھے یقین دلاتی ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں خواہ مجھے اپنے والدین اور رشتہ داروں کو چھوڑنا پڑے اور میں بھی اُسے چاہتا ہوں اور ہمارا ایک بچہ بھی ہے۔ براہ کرم اس بارے میں بتایا جائے کہ ان حالات میں طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟۔  دوائی کی وجہ سے  طلاق کے وقت میرے ہوش وحواس ٹھیک تھے ۔

جواب

شرعا معتوہ اور مجنون کی طلاق معتبر نہیں، واضح رہے کہ معتوہ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کی کیفیت کسی مرض، بڑھاپے یا مصیبت کی وجہ سے ایسی ہو جائے کہ وہ پاگلوں کی طرح باتیں کرنے لگے، اس کے افعال و اقوال میں خلل واقع ہو جائے ،ہذیان کا غلبہ ہو،صحیح اور مذاق میں فرق نہ کر سکے ۔
جبکہ سائل سے زبانی استفسار کرنے پر اور ان کی تحریر پڑھنے سے یہ بات واضح ہوئی کہ انہوں نے جب طلاق کے الفاظ لکھے اس وقت ان کی ایسی کیفیت نہیں تھی کہ ان کو معتوہ کہا جا سکے ؛ لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ نیز واضح رہے کہ فقہاء کرام نے اکراہ کی صورت میں محض کتابت طلاق سے طلاق کے عدم وقوع کے لئے اکراہ  بالضرب یا با لحبس کی شرط لگائی ہے جبکہ سائل کے بیان کے مطابق ان پر اکراہ کی ایسی کیفیت نہیں تھی۔
:المحيط البرهاني،برھان الدین(م:616ھ)(  4/391) بیروت
والمعتوه من يفعل ما يفعله المجانين في الأحانين لكن عن قصد يعني يقصد فعله مع ظهور وجه الفساد۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)( 3/ 243) ایچ۔ایم۔سعید
وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، لكن لا يضرب ولا يشتم… بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل … وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة ماجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها۔
:الفتاوی التا تارخانیۃ،فرید الدین الدہلوی(م:786ھ)(4/532)فاروقیۃ
وفی الظھیریۃ رجل أکرہ بالضرب والحبس علی أن یکتب طلاق امراتہ فکتب”فلانۃ بنت فلانۃامراتہ طالق” وفی الحاوی ولم یعبر لسانہ لا تطلق۔۔۔۔ وفی فتاوی أھل سمر قندإذا  أ کرہ الرجل بالضرب والحبس علی أن یکتب طلاق امراتہ فکتب  “فلانۃ طالق” لا تطلق.  ۔
: البحرالرائق،ابن نجيم المصري(م:970ه) (3/435)رشیدیۃ
وأراد بالمجنون من في عقله اختلال فيدخل المعتوه وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير لكن لا يضرب ولا يشتم بخلاف المجنون ويدخل المبرسم۔
: الفتاوى الهندية ، لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدين البلخي (1/387)بیروت
وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس