میرے والد محترم کی وفات پر میں اور میرا بھائی محمدیامین متوفی کی وراثت کے حقدار تھے۔ہمارا کوئی مزید بھائی یا بہن اس وقت زندہ نہیں تھے، گویا ہم دو بہن بھائی وارث تھے ۔2010ء موسم گرما میں میرا بھائی محمد یامین فوت ہوگیا اس کی اولاد میں صرف ایک بیٹی زینب رہی جو شادی شدہ تھی۔ مرحوم کے چند دنوں بعد ان کی شادی شدہ بیٹی تین بچیوں کو پسماندگان میں چھوڑ کر انتقال کر گئی ۔میرے بھائی محمدیامین کی اہلیہ اس سے قبل ہی انتقال کر چکی تھی ۔اس صورتحال کے پیش نظرمیرے بھائی محمد یامین کا ترکہ منقولہ وغیر منقولہ اس کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا جبکہ میں نے والد محترم کی وفات کے بعد سے ابھی تک وارثتی حصے کا مطالبہ نہیں کیا۔
اصل جواب سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، کپڑے، برتن ، زیورات ، سونا، چاندی، نقدی غرض جو کچھ سامان چھوڑا ، نیز مرحوم کا کسی شخص یا ادارہ کے ذمہ جتنا قرض واجب الاداء تھا وہ سب میت کا ترکہ ہے، اس ترکہ میں سے پہلے مرحوم کے کفن ودفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی نے یہ اخراجات بطو را حسان اداء کر دیے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجب الاداء ہو تو وہ اداء کیاجائے، اگر مرحوم نے بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ بھی قرض ہے اسے بھی اداء کیا جائے۔ اس کے بعد مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک عمل کیا جائے، اس کے بعد جو کچھ بچے گا اس کو مندرجہ ذیل تفصیل کےمطابق تقسیم کیا جائے۔
محمد یامین کے بقیہ کل مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ اس کی بیٹی (زینب) کا ہوگا اور ایک حصہ مرحوم محمد یامین کی بہن زیب النساء کا ہوگا، پھرزینب کا اپنا مال اور جووالد محترم سے اس کے حصہ میں آیا ہے اس کل مال کے تین حصہ کر کے اس کی تین بیٹیوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا، بشرطیکہ مرحومین کے انتقال کے وقت کسی کے بھی مذ کو رہ ورثاء کے علاوہ مزید ورثاء (مثلاً ماں، بہن، کسی بھی قسم کے بھائی بہن ، باپ، شوہر وغیرہ) اور باپ کی طرف سے قومی مرد ( یعنی عصبہ ) نہ ہوں اگر کوئی اور وارث ہو تو تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کریں۔