بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مناسخہ یعنی وراثت سے اپنا حصہ وصول کرنے سے قبل وفات پانے والے کی میراث کی تقسیم

سوال

میرے والد محترم کی وفات پر میں اور میرا  بھائی محمدیامین متوفی کی وراثت کے حقدار تھے۔ہمارا کوئی مزید بھائی یا بہن اس وقت زندہ نہیں تھے، گویا ہم دو بہن بھائی وارث تھے ۔2010ء موسم گرما میں میرا  بھائی  محمد یامین فوت ہوگیا اس  کی اولاد میں صرف ایک بیٹی زینب رہی جو شادی شدہ تھی۔ مرحوم کے چند دنوں بعد ان کی شادی شدہ بیٹی تین بچیوں کو پسماندگان میں چھوڑ کر انتقال کر گئی ۔میرے بھائی محمدیامین کی اہلیہ اس  سے قبل ہی انتقال کر چکی تھی ۔اس صورتحال کے پیش نظرمیرے بھائی محمد یامین کا ترکہ منقولہ وغیر منقولہ اس کے ورثاء میں  کس طرح تقسیم ہوگا  جبکہ میں نے والد محترم کی وفات کے بعد سے   ابھی تک وارثتی حصے کا مطالبہ نہیں کیا۔

جواب

اصل جواب سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، کپڑے،  برتن ، زیورات ، سونا، چاندی، نقدی غرض جو کچھ سامان چھوڑا ، نیز مرحوم کا کسی شخص یا ادارہ کے ذمہ جتنا قرض واجب الاداء تھا وہ سب میت کا ترکہ ہے، اس ترکہ میں سے پہلے مرحوم کے کفن ودفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی نے یہ اخراجات بطو را حسان اداء کر دیے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجب الاداء ہو تو وہ اداء کیاجائے، اگر مرحوم نے بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ بھی قرض ہے اسے بھی اداء کیا جائے۔ اس کے بعد مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک عمل کیا جائے، اس کے بعد جو کچھ بچے گا  اس کو مندرجہ ذیل تفصیل کےمطابق تقسیم کیا  جائے۔
محمد یامین کے بقیہ کل مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ اس کی بیٹی (زینب) کا ہوگا اور ایک حصہ مرحوم محمد یامین کی بہن زیب النساء کا ہوگا، پھرزینب  کا اپنا مال اور جووالد محترم   سے اس کے حصہ میں آیا ہے اس کل مال کے تین حصہ کر کے اس کی تین بیٹیوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا، بشرطیکہ مرحومین کے انتقال کے وقت کسی کے بھی مذ کو رہ ورثاء کے علاوہ  مزید ورثاء (مثلاً ماں، بہن، کسی بھی قسم کے بھائی بہن ، باپ، شوہر وغیرہ) اور باپ کی طرف سے قومی مرد ( یعنی عصبہ ) نہ ہوں اگر کوئی اور وارث ہو تو تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کریں۔ 
: الفتاوى الهندية ،لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(1/ 303)رشیدیۃ
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع۔
: قال اللہ تعالی: [النساء: 11]
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
: السراجی،سراج الدین السجاوندی(م:600)(ص:5)المکتبۃ البشری
قال علماؤنا:تتعلق بترکۃ المیت حقوق أربعۃ مرتبۃ:الأول:یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر،ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ،ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ وإجماع الأمۃ۔
: الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(6/ 788)ایچ۔ایم۔سعید
ثم مسائل الرد أربعة أقسام، لأن المردود عليه إما صنف أو أكثر وعلى كل إما أن يكون من لا يرد عليه أو لا يكون.(ف) الأول (إن اتحد جنس المردود عليهم) كبنتين أو أختين أو جدتين (قسمت المسألة من عدد رءوسهم) ابتداء قطعا للتطويل۔
:  الفتاوى الهندية،لجنہ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی(6/ 451)رشیدیۃ
وعصبة مع غيره وهي كل أنثى تصير عصبة مع أنثى أخرى كالأخوات لأب وأم أو لأب يصرن عصبة مع البنات أو بنات الابن۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس