بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد ،مدرسہ وغیرہ کے فنڈ سے کسی ملازم کو قرض دینا اور قرض واپس نہ ملنے پر معاف کرنا

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ مسجداور مدرسہ اسی طرح وہ خیراتی ادارے جو عوام الناس کے تعاون سے چلتے ہیں۔  ان اداروں کی انتظامیہ کو کیایہ حق ہے کہ اداروں میں کام کرنے والوں کو قرض وغیرہ دیں پھر ان قرضہ لینے والوں  کی تنگ دستی کو دیکھتے ہوئے کل یا بعض قرض معاف کردیں؟ اسی طرح تنخواہ کے علاوہ کسی وقت ملازمین کو اس فنڈ میں سے بطور انعام کے کچھ دے دیں۔یہ یاد رہے کہ عموماً تعاون کرنے والےانتظامیہ کو کل اختیار دے دیتے ہیں ۔

جواب

مسجد ومدرسہ کےلیے دیے گئے چندہ کے مال کو انہی کے مصرف پر خرچ کرنا ضروری ہے، عام حالات میں کسی کو قرض دینا صحیح نہیں ہے ۔البتہ مذکورہ عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ مسجدو مدرسہ کے مصالح کو پیش نظر رکھتے ہوئے ادارہ کے ہی کسی اجیر، ملازم وغیرہ کو اس کی ضرورت یا تنگ دستی کی وجہ سے صرف قرض دینے کی درج ذیل شرائط کے ساتھ گنجائش ہے ،قرض معاف کرنا صحیح نہیں ہے۔
نمبر۱۔صرف ادارہ کے ہی کسی ملازم کو دیا جائے۔
نمبر ۲۔جس کو دیا جائے وہ واقعی ضرورت مند وتنگ دست ہو۔
نمبر۳۔قرض کی واپسی ظاہراً یقینی ہو، ضائع ہونے کا خوف نہ ہو ۔
نمبر۴۔اگر قرض وصول نہ ہواتو متولی ضامن ہوگا۔
نمبر۵۔قرض مدرسہ کی کسی واقعی مصلحت کے تحت دیا جائے، مثلاً یہ کہ ملازم ادارہ میں مزید محنت اور اعتماد کے ساتھ مستقل کام کرتارہے۔
نمبر۶۔قرض دی جانے والی اصل مصرف سے زائد ہو ۔
        مسجد ومدرسہ کے طے شدہ اصول وضوابط کے مطابق اس کے فنڈ میں سے کسی خاص موقع پر امام،طلبہ، مدرس کو بطور امداد انعام دیا جاسکتاہے۔
:خلاصۃ الفتاوی، طاہر بن عبد الرشید البخاری (م:542ھ)  (4/432)رشیدیۃ
وأما إقراض ما فضل من الوقف ،قال فی وصایا النوازل :رجوت أن یکون ذلک واسعا إذا کان ذلک أحرز للغلۃ من إمساکہ ،فإن فضل من غلتہ ،فصرف الفضل إلی حوائجہ علی أن یردہ إذا احتاج إلی العمارۃ ، قال :لایفعل ذلک وینزہ غایۃ التنزہ ،فإن فعل مع ذلک ،ثم أنفق فیہ رجوت أن ذلک یبرأہ عما وجب علیہ “۔”
:البحر الرائق،ابن نجیم المصری(م:970ھ) (5/401) رشیدیۃ
مع أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض ۔
:الفتاوى الهندية ، لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدين البلخي (2/ 368)رشیدیۃ
الذي يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته، شرط الواقف أم لا، ثم إلی  ما هو أقرب إلى العمارة أعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة ۔
:الفتاوى الهندية ، لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدين البلخي (2/ 415)رشیدیۃ
وليس للقيم أن يأخذ ما فضل عن وجه عمارة المدرسة دينا ليصرفها إلى الفقهاء، وإن احتاجوا إليه، كذا في القنية۔
:رد المحتار، ابن عابدين الشامی  (م: 1252ه) (2/ 337)ایچ۔ایم۔سعید
أنه يجب عليه أن يجعل لكل نوع منها بيتا يخصه، ولا يختلط بعضه ببعض، وأنه إذا احتاج إلى مصرف خزانة وليس فيها ما يفي به، يستقرض من خزانة غيرها، ثم إذا حصل التي استقرض بها مال، يؤدی إلى المستقرض۔
:رد المحتار ،ابن عابدين الشامی  (م: 1252ه) (4/ 360)ايچ۔ايم۔سعيد
(قوله: اتحد الواقف والجهة) بأن وقف وقفين على المسجد: أحدهما على العمارة والآخر إلى إمامه أو مؤذنه، والإمام والمؤذن لا يستقر لقلة المرسوم، للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح، والعمارة إلى الإمام والمؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة۔
:رد المحتار،ابن عابدين الشامی  (م: 1252ه) (5/ 417)ایچ۔ایم۔سعید
ذكره في البحر عن جامع الفصولين لكن فيه أيضا عن العدة يسع للمتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز اهـ  ومقتضاه أنه لا يختص بالقاضي مع أنه صرح في البحر عن الخزانة أن المتولي يضمن إلا أن يقال: إنه حيث لم يكن الإقراض أحرز… أن للمتولی إقراض مال المسجد بأمر القاضی۔
:في التاتار خانية، عالم بن علاء دہلوی(م:786 ) (8/198)فاروقیہ
رجل جمع مالا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد ،فأنفق من تلک الدراہم فی حاجۃ نفسہ،ثم رد بدلہا فی نفقۃ المسجد لا یسعہ أن یفعل ذلک۔
:الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(4/ 367) ایچ.ایم.سعید
فی الدر:ویبدأ من غلته بعمارته ثم ما هو أقرب بعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدركفايتهم۔
:وفي الشامية تحتہ( 4/367) ایچ.ایم.سعید
“ثم ما هو أقرب بعمارته “الخ شرط الوقف أولا،ثم ما هو أقرب إلي العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد… هذا  إذا لم يكن معينًا،فإن كا ن الوقف معينا علي شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء ۔
:منحة الخالق علی البحرالرائق،ابن عابدين الشامی  (م: 1252ه)  ( 5/358)رشیدیۃ:
وکذا الوقف علی الذین یختلفون إلی ھذہ المدرسۃ أو علي متعلميها أو علي علمائها، يجوز للقيم أن يفضل البعض ويحرم البعض إذا  لم يعين الواقف قدر ما يعطي كل واحد ا.۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس