بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دلال کایک طرفہ کمیشن وصول کرنا

سوال

صورت مسئولہ یہ ہے کہ زیدکے پاس ایک آدمی آیا جو ڈائریاں بنوانا چاہتاتھا، زید خود تو ڈائریوں کا کام نہیں کرتا لیکن اس نے ڈائری بنانےوالے سے ملواکر اس سے کہاکہ اس سے معاملہ کرتے ہوئے میرا کمیشن بھی رکھنا ۔ آیا زید کا اپنے لئے یہ کمیشن  رکھوانا جائز ہے یاناجائز ؟

جواب

مذکورہ صورت  میں زید کا کمیشن رکھوانا جائز ہے، بشرطیکہ اجرت صاف طورپر متعین کرلی جائے۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(6/ 63)ایچ۔ایم۔سعید
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما  تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا  فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا؛  لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(6/ 47)ایچ۔ایم۔سعید
 قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل۔
:الدرالمختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(4/560)ایچ۔ایم۔سعید
وأما الدلال فإن باع العین بنفسہ بإذن ربہا فأجرتہ علی البائع وإن سعی بینہما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف وتمامہ فی شرح الوہبانیۃ۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (4/560)ایچ۔ایم۔سعید
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس