بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مشتری کا خراب مال فروخت کرنے کےبعد بائع (کمپنی ) سے ضمان وصول کرنا

سوال

صورت مسئلہ یہ  ہےکہ بندہ نے ایک کمپنی سے کاغذ خریدا۔ وہ کاغذ جب بندہ کو ملا تو اس میں خراب بھی تھا ۔ہم نے کمپنی کو صورت حال سے مطلع کیاتو انہوں نے خراب مال کا نمونہ طلب کیا جو ان کو دے دیا گیا ۔پھر انہوں نے اس خراب مال کا ضمان (کلیم) دینے کو کہا۔ہم نے وہ خراب مال بھی فروخت کردیا ۔مقدر کی بات کہ ہم کو اس مال کی فروختگی میں نقصان نہیں ہوا ۔معلوم  یہ کرنا ہے کیا ہمارے لئے اس کا ضمان(کلیم ) لینا درست ہے؟

جواب

مذکورہ صورت  میں چونکہ خراب مال آگے فروخت کیا جا چکا ہے اور اس صورت میں نقصان بھی نہیں ہوا اس لیے اس کی ضمان لینا درست نہیں ہے۔
:الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(5/ 19، 20) ایچ ،ایم ،سعید
(كما) لا يرجع (لو باع المشتري الثوب) كله أو بعضه أو وهبه (بعد القطع) لجواز رده مقطوعا لا مخيطا۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(5/ 19،20) ایچ۔ایم۔سعید
(قوله كما لا يرجع لو باع المشتري الثوب إلخ) أي أخرجه عن ملكه والبيع مثال، فعم ما لو وهبه أو أقر به لغيره ولا فرق بين ما إذا كان بعد رؤية العيب أو قبله. كما في الفتح… ثم اعلم أن البيع ونحوه مانع من الرجوع بالنقصان… (قوله لجواز رده مقطوعا لا مخيطا) يعني أن الرد بعد القطع غير ممتنع برضا البائع، فلما باعه المشتري صار حابسا للمبيع بالبيع فلا يرجع بالنقصان۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس