بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاقِ بائن دینے کے بعد تجدید ِنکاح کا طریقہ اور پہلے نکاح کے مہر کاحکم

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دی اور اس سے عقدجدید کرنا چاہتاہے لیکن  سابقہ عقد کا مہر بھی ابھی تک باقی ہے اس کو ادا  نہیں کیا گیا۔  اس شخص کےلیے کیا حکم ہے کہ وہ سابقہ مہر بھی ادا کرے گا  یا نہیں ؟ اور عقد جدید کرتے وقت عقد کی تمام شرائط لاگوں ہوں گی یعنی گواہوں کی موجودگی، مہر جدید کا لازم ہونا اور مہر کی ادائیگی کاواجب ہونا؟

جواب

پہلے نکاح میں جو مہر مقرر ہوا تھا یہ شوہر کے ذمہ قرض ہے اور اس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے۔ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں آخرت میں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے ۔ واضح رہے کہ طلاق ِ بائن کے بعد کئے جانے والے نکاح جدید میں بھی دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ضروری ہے اور مہر بھی دوبارہ مقرر کرنا ہوگا۔
:بدائع الصنائع،علاءالدين الكاساني(م:587ه)(3/ 513) بیروت
المهر في النكاح الصحيح يجب بالعقد؛ لأنه إحداث الملك، والمهر يجب بمقابلة إحداث الملك.
:    الفتاوى الهندية، لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/324)بیروت
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق
:  فتاوی قاضی خان،حسن بن منصور(م:592ھ)(1/342)رشیدیۃ
والطلاق بعد الدخول یعقب الرجعۃ،ویوجب کمال المھر،فیجب علیہ المسمی فی النکاح الثانی فیجتمع علیہ مھران
                       : رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(3/ 194)ايچ۔ايم سعيد
(قوله وعلى تجديد النكاح) فلكل قاض أن يجدده بمهر يسير ولو بدينار رضيت أم لا

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس