بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک طلاق کی عدت گزرنے کے بعد تین طلاقیں دینا

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو مؤرخہ 7مئی 2008 کو ایک طلاق دی ۔عدت کے دوران مصالحت کی کوشش کی گئی لیکن کارگر نہ ہوئی ۔شوہر نے ایک سال بعد بمؤرخہ 11ماچ 2009ء اپنی زوجہ کو نوٹس بھیجا جس میں تین طلاقیں درج تھی۔
اب زوجین باہم ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ان کے لیے جو بھی صورت شرعیہ ممکن ہے   ۔ راہ نمائی فرمائیں تاکہ زوجین پھر سے ازدواجی زندگی استوار کرسکیں ۔
نوٹ: دوسر ی دفعہ جو طلاق دی گئی اس وقت پہلی طلاق کے بعد تین ماہ واریاں گزر کرکے عدت مکمل ہوچکی تھی ۔ اور شوہر نے عدت میں رجوع بھی نہیں کیا ۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورت حال اگر حقیقت پر مبنی ہے کہ شوہر نے ایک طلاق دینے کے بعد دوران عدت مزید طلاق نہیں دی اور نہ ہی طلاق کے بعد عدت میں رجوع کیا بلکہ عدت گزرنے کے بعد تین طلا ق کا نوٹس بھیجا تواس صورت میں چونکہ عدت گزرنے کی وجہ سے  نکاح ختم ہوچکا تھا اس لیے عدت کے بعد دی گئی تین طلاقیں لغو ہیں ان کا اعتبار نہیں ہوگا ۔اب یہ دونوں دوبارہ نکاح کرکے آپس میں اکٹھے رہ سکتے ہیں بشرطیکہ  پہلی طلاق سے پہلے کبھی طلاق نہ دی ہو ۔واضح رہے کہ شوہر کے پاس اب صرف دوطلاقوں کا حق باقی رہ گیا ہے ۔
:المحيط البرهاني ،برهان الدين محمود ٍ صدر الشریعۃ (م: 616ه) (3/ 205)دار احیاءترات العربی بیروت
فنقول شرط صحة الطلاق قيام العقد في المرأة نكاحاً كان أو عدة، وقيام حل جواز العقد، ولا يكفي أحدهما لصحة الطلاق ۔۔۔ وأما قيام حل جواز العقد وحده لأنه بعدما طلقها واحدة أو ثنتين وانقضت عدتها وطلقها لا يصح طلاقه
:  الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م:1088ه)(3/ 409)ايچ۔ايم۔سعيد
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب
                     : بدائع الصنائع،علاء الدين الكاساني(م:587ه)مكتبة علمية
(فصل) وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس