بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سونے کی قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں قیمت ہی لازم ہوگی

سوال

تفصیل مسئلہ زیور
ستمبر 1994ء میں جناب ش صاحب مرحوم نے اپنے بچپن کے بہت قریبی دوست محترم خ صاحب کو اپنی بچی کی شادی کے موقع  پر زیور بنوانے کےلیے 22 قیراط سونے کا ایک عدد کڑا (کنگن ) جس کا وزن 60 گرام 700 ملی گرام تھا اپنے ہاتھ سے دیا اور یہ کہا کہ زیور میں جتنا سونا مزید لگتاہووہ خ صاحب اپنے پاس سے ڈال کر زیور بنادیں ۔پھر ہم بعد میں حساب کرلیں گے ۔ش صاحب مرحوم اور محترم خ صاحب کے درمیان دوستی محبت اور تعلق ایسا تھا کہ اس کے علاوہ اور کچھ طے نہیں ہوا۔
اکتوبر 1994ء میں جناب خ صاحب نے دوسیٹ (Sets) پر مشتمل جو زیور تیار کرکے ش صاحب مرحوم کو دیا اس کا خ صاحب کے حساب کے مطابق  (الف)۔زیور میں لگائے گئے 22 قیراط سونے کا کل وزن 81 گرام 200 ملی گرام تھا ۔(ب)۔خ صاحب نے اس وقت 1994 ء میں زیور کے حساب کا بقایا بل اپنے بڑے بھائی جان سے بنواکر ش صاحب مرحوم کو دیا تھا جس میں زیور میں لگائے گئے سونے کی رقم ،زیور بنانے کی اجرت ،نگینہ،موتی اور بکس وغیرہ سب کی رقم شامل تھی ۔ وہ ش صاحب مرحوم کے ذمہ کل بقایا مبلغ (23،000) تئیس ہزار کچھ صد روپے لکھی تھی۔
ش صاحب مرحوم نے دوران حیات اپنے ذمہ بقایا ادائیگیوں کے بارے میں اپنے ورثاء کو جو تفصیل لکھوائی تھی اس میں محترم خ صاحب کو زیور کی مَدْ میں دینے کےلیے مبلغ چوبیس ہزارروپے لکھوائے تھے ۔ سن 1994 ، 19 مئی 2007 ء تک تقریبا تیرہ سال کے دوران ش صاحب مرحوم کوشش کے باوجود بعض وجوہ کی بناء پر محترم خ صاحب کو کوئی ادائیگی نہ کرسکے اور بقضائے الٰہی انتقال کرگئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اب ش صاحب مرحوم کے ورثاء نے اپنے مرحوم والد کےذمہ بقایا ادائیگیوں کے سلسلے میں جب خ صاحب سے رابطہ کیا ہے تو اُن کی طرف سے حساب کی درج ذیل صورت حال اور مؤقف سامنے آگیاہے ۔
:محترم خ صاحب کا مؤقف
محترم خ صاحب یہ کہتے ہیں کہ اگر 1994 ء میں ش صاحب مرحوم اس وقت کا بقایا مذکورہ بل مجھے ادا کر  دیتے تو میں فوراً اس کا سونا خرید کر اپنے کام میں ڈال دیتا چونکہ اس وقت ادائیگی نہیں ہوئی ،لہٰذا اب جب بھی حساب ہوگا تو 81گرام 200 ملی گرام وزن کا 22 قیراط سونا اصلاً یا اس کے مساوی موجودہ مروجہ قیمت مجھے دی جائیگی ۔ ہمارے ہاں سونے کا کام کرنے والوں میں جب تاخیر سے ادائیگی ہوتی ہے توہم سونا ہی مانگتے ہیں ۔ یہ عام بات ہے سب کو معلوم ہے اور ش صاحب مرحوم کو بھی معلوم تھی کہ یہ طریقہ کار ہوتاہے۔
محترم خ صاحب کایہ بھی کہنا ہے کہ ش صاحب مرحوم نے 1994 ء میں اس وقت ملازم کو بھیج کر بازار میں اس کڑے (کنگن ) کی قیمت لگوائی تھی جو کہ مبلغ پندرہ ہزارلگی تھی اور میرے (خ صاحب کے ) ریفائن کروانے کے بعد مبلغ پندرہ ہزار نو صد روپے ہوگئی تھی ۔
محترم خ صاحب کی طرف سے دیئے گئے حساب کے نئے پرچے سے یہ بات واضح ہے کہ زیور میں استعمال کیا گیا 22 قیراط کل سونا بہ وزن 81 گرام 200 ملی گرام تو اسی جگہ پر ہیں ش صاحب مرحوم کے ذمہ بقایا ہے جبکہ ش صاحب مرحوم نے محترم خ صاحب کو جو ایک عدد کڑا (کنگن ) 22 قیراط سونے کا بہ وزن 60 گرام 700 ملی گرام بدست خود پیشگی دیا تھا ۔ اس کو 1994ء کی سونے کی قیمت کے حساب سے روپے میں تبدیل کرکے نگینہ، موتی اوراجرت وغیرہ کی مَدْ سے منہا کردیا گیا ہے ۔
:ش صاحب مرحوم کے ورثا ء کا مؤقف
محترم خ صاحب ہمارے والد مرحوم کے بہت عزیزاور قریبی دوستوں میں سے ہیں اورہمیں بھی بہت عزیز ہیں۔زیور کے مسئلے کی لکھی ہوئی مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق ش صاحب مرحوم کے ذمہ خ صاحب کی جتنی بھی رقم یا سونا بقایا واجب الاداء ہے ہم اسے انشاء اللہ تعالیٰ شریعت کے حکم کے مطابق ادا کرینگے چاہے وہ مالیت کے اعتبار سے اب زیادہ ہو یا کم ہو ۔ :مسئلہ حضرات مفتیان کرام  کیا یہ جائز ہے کہ محترم خ صاحب کے مذکورہ موقف کے مطابق ان کو ادائیگی کی جائے ؟ اور اگر یہ جائز نہیں تو پھر شرعا کس طریقےوحساب  سے محترم خ صاحب کو ش صاحب مرحوم کے ورثاء ادائیگی کرے کہ مرحوم کے ذمے سے قرض بھی ادا ہوجائے اور دونوں فریق کسی طرح گناہ گار بھی نہ ہوں۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب خ صاحب نے اپنی طرف سے سونا شامل کرکے زیور کی تیاری کے بعد اس کی اجرت اور اپنی طرف سے شامل کردہ سونے کی قیمت کابل بنا کر ش صاحب کو دے دیا تو یہ رقم ان کے ذمہ لازم ہوگئی ان کے ذمہ  فوراً اس رقم کی ادائیگی لازم تھی ۔البتہ جب انہوں نے ادائیگی نہیں کی تو اب ورثاء کے ذمہ لازم ہے کہ وہ مرحوم کے ترکی سے اس رقم کی ادائیگی کریں ۔البتہ خ صاحب  کو شرعاً سونے کی ادئیگی کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ۔
:الفتاوى الهندية ، لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (4/ 517) رشیدیۃ
رجل سلم غزلا إلى حائك لينسجه…… وإن قال زد رطلا من غزلك على أن أعطيك ثمن الغزل وأجر عملك كذا درهما فالقياس أن لا يجوز وفي الاستحسان يجوز
:   المحيط البرهاني برهان الدين محمود ٍ صدر الشریعۃ (م: 616ه) (12/100)دار احیاءترات العربی بیروت
الرابع: أن يقول: زد رطلاً من مالك على أن أعطيك ثمن الغزل، وأجر عملك كذا كذا درهماً. فالقياس: أن لا يجوز وفي الاستحسان يجوز
:البحر الرائق، ابن نجيم المصري (م: 970ه) (9/ 364)رشیدیۃ
وأما الحقوق المتعلقة بالتركة فأربعة الكفن والدفن والوصية والدين والميراث فأول ما يبدأ منها بكفن الميت ودفنه؛ لأن ستر عورته ومواراة سوآته من أهم حوائجه واستغراق الدين بماله لم يمنعه من ذلك حال حياته فكذلك بعد وفاته ثم تقضى ديونه؛ لأنها أهم من قضاء ديون الله لا استغناء الله تعالى وافتقار العبد لشدة خصومة الله تعالى في حقوق العباد ولكثرة تجاوز الله تعالى وعفوه وتفضله وكرمه
:البحر الرائق، ابن نجيم المصري (م: 970ه) (6/ 15)دارالکتب الاسلامی
والفرق بين الثمن والقيمة أن الثمن ما تراضى عليه المتعاقدان سواء زاد على القيمة أو نقص
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس