شوہرکے بقول اس کی بیوی نے اس کی والدہ کے بارے میں انتہائی غلیظ الفاظ استعمال کئے۔اس کے جواب میں شوہرنے اپنی بیوی سے کہا”ایسی بےغیرت بیوی کو میں طلاق دوں گا،طلاق دوں گا،طلاق دوں گا۔(شوہر کا بیان ختم ہوا)۔ بیوی اور موقع پر موجود ایک عاقلہ،بالغہ مسلمان اور غیر جانبدار خاتون ان دونوں کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اولا اپنی بیوی کو زد وکوب کیا پھر یہ الفاظ کہے “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق طلاق”۔ واضح رہے کہ مذکورہ بالامیاں بیوی کے درمیان سخت اَن بَن عرصہ دراز سے چلتی آرہی ہے یہ کئی دفعہ طلاق کی دھمکی دے چکے ہیں مذکورہ واقعہ سے چار دن پہلے بھی “میں صبح تجھے طلاق دوں گا”کے الفاظ کہے ہیں اور یہی الفاظ سالی کو بھی کہے ہیں کہ میں صبح فارغ کر دوں گا۔
اگر شخص مذکور کی بیوی کو یقین ہے کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہے تو اس بیوی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر سے تعلق قائم رکھے اور جس طرح بھی ہو علیحدگی اختیار کرے اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس حالت میں بیوی کو شوہر کے حوالے کرے اور اگر جبراً شوہر کو بیوی دلوادی جائے اور بیوی بھاگنے پر اور مال دے کر چھڑانے پر قادر نہ ہو تو بیوی گنہگار نہ ہوگی بلکہ شوہر گنہگار ہوگا۔