بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو بیٹوں ، پانچ بیٹیوں اور دو پوتیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

میت کےورثاء میں  2 بیٹے،5بیٹیاں،2پوتیاں ہیں باقی اور کوئی رشتہ دار نہیں ہے، ان کے درمیان میراث کی تقسیم کیسے ہوگی۔

جواب

میراث کی تقسیم کا شرعی حکم

میت کے مال سے اس کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور ثلث مال سے وصیت پوری کرنے کے بعد بقیہ مال کے نو (9) حصے کرکے دو (2) حصے ہر بیٹے کو دیئے جائیں گے اور ایک حصہ ہر بیٹی کو دیا جائے گا۔ پوتیاں اولاد کے ہوتے ہوئے محروم ہوتی ہیں۔
قال اللہ تعالی: [النساء: 11]
{ يُوصِيْكُمُ اللّهُ فِيْ أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}
:البحر الرائق، العلامة ابن نجيم المصري(م: 970هـ)(8/ 564) دار الكتاب الإسلامي
قال رحمه الله  (وحجبن ببنتين) أي يحجب بنات الابن ببنتين صلبيتين؛ لأن إرثهن كان تكملة للثلثين، وقد كمل بثلثين فسقطن
:الفتاوى الهندية ،لجنۃ علماء برئاسۃنظام الدین البلخی (6/ 447) بیروت
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس