بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شراب خانے کےملازم کی آمدنی جائز نہیں

سوال

میرے کلاس فیلو نے مجھ سے  ایک سوال کیا چونکہ میری وضع اسلامی ہے اس وجہ سے پوچھتاہے کہ اگر مالک کا کاروبار شراب خریدنا اور شراب بیچنا ہے تو وہ اپنے نوکر کو اجرت پر شراب بھی دے سکتاہے۔ کیونکہ اگر وہ پیسے دے سکتاہے جوکہ حرام  کاروبار سے آئے تو بذات خود شراب کیوں نہیں دے سکتا، اگرچہ نوکر کا کام صرف چوکیداری یا باتھ روم وغیرہ کی صفائی ہی ہے ۔بعد میں وہ پوچھتاہے اس مثال کو بنیاد بنا کر کہ سودی بینک کی نوکری صرف چوکیداری یا صفائی والے کےلیے ہی جائز کیوں۔یہ سوال سن کر میں شش رہ گیا ۔برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں؟

جواب

شراب خانے میں شراب سے غیرمتعلقہ نوکری مثلاً چوکیداری صفائی وغیرہ کی آمدن جائز نہیں اور اجرت میں شراب لینا بھی جائز نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب کی ساری آمدن حرام ہے۔
        جبکہ بینک میں سودی اور غیر سودی دونوں طرح کے معاملات ہوتے ہیں ۔اور حلال مال غالب ہوتاہے اس لیے بینک میں سود سے غیر متعلقہ کام کرنا جائز ہے ۔البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک  میں ا س طرح کی ملازمت نہ کی جائے۔
رد المحتار على الدر المختار (6/ 449)سعید
(قوله لا ماليتها في الأصح) لأن المال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع، فتكون مالا لكنها غير متقومة لما قلنا۔
الفتاوى الهندية (5/ 410)
أنه يحرم تمليكها وتملكها بالبيع والهبة وغيرهما مما للعباد فيه صنع۔
بحوث  قضایا فقہیہ معاصرہ (1/339) مکتبة المعارف کراتشی
فذکر ابن عباس :ان رجلا اھدی الی النبی ﷺ روایة خمر فقال له رسول اللہ ﷺ ان الذی حرم شربھا حرم بیعہا۔
فقہ البیوع (2/1032) مکتبة المعارف کراتشی
 اما اذا کانت الوظیفۃ لیس لہا علاقة مباشرۃ بالعملیات الربویة مثل وظیفۃ الحارس،او سائق السیارۃ او المعدات او الکھرباء وال المواظف الذی یتمحص عمله فی الخدمات المصرفیة المباحة ۔۔۔۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس