بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ڈاکٹر کا مریض کو خاص کمپنی کی دوائی لکھ کر دینا اور کمپنی سے کمیشن وصول کرنا

سوال

عرض یہ ہے کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں ،میں مریض کو دوائی لکھ کر دیتاہوں اور اس دوائی لکھ کر دینے کے میں اپنے پیسے لیتاہوں۔اگر میں کسی ایک مخصوص کمپنی کی دوائی لکھ کر دوں تو کمپنی  والے اس کے عوض مجھے کمیشن دیں گے ، یعنی اگر دوائی کی کل قیمت 500 ہے اور اس میں کمپنی کا منافع 100 ہوتاہے تو کمپنی والے اس 100 روپے میں سے 40 یا 50 روپے مجھے دیں گے۔
نمبر۱۔دوائی کی قیمت بھی مارکیٹ کی باقی کمپنیوں کے مطابق ہوگی۔
نمبر ۲۔ دوائی معیار کے لحاظ سے بھی اچھی ہوگی ۔
نمبر ۳۔ مریض کی بیماری کے مطابق دوائی ضرورت بھی ہوگی یعنی غیر ضروری دوائی نہیں ہوگی۔
باقی بھی کسی قسم کا مریض کا مالی یا صحت کا نقصان نہیں ہوگا۔ اگر میں کمیشن لیتا ہوں تو مریض کی جیب سے اتنے ہی پیسے نکلیں گے جتنےا گر میں کمیشن نہ لو ں اتنے نکلتے ہوں۔ یعنی مریض کو پیسوں کےلحاظ سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ تو کیا اس صورت میں کمپنی سے میں پیسے لوں یا کسی قسم کی کوئی اور چیز لوتو وہ میرے لیے جائز ہوگی یا ناجائز یا حرام یا مکروہ؟ راہ نمائی فرمائیں

جواب

ڈاکٹرصاحبان کامریض کےلئےکسی خاص کمپنی کی دوائیاں تجویزکرکےدوائی کی کمپنی سےکمیشن وصول کرناجائزنہیں کمپنی سےملنےوالی رقم سےبچناضروری ہے۔
ماخذ امداد الفتاوی (3/410) ، ماخذ فتاوی رشیدیہ(ص:698) مکتبہ اشاعت۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس